بدھ، 20 ستمبر، 2023

گوادر کاروبار، حصول روزگار و سیاحتی ٹور

گوادر سے بحری/سمندری شاہراہ ریشم، چین، ایران، روس، آزربائیجان، قازقستان،ترکمانستان، اومان، ترکیہ، جارجیا، بیلاروس، ازبکستان،کرغیزستان، تاجکستان اور دیگر ممالک سے گوادر اور چاہ بہار پورٹ اوربحیرہ کیسپین کے ذریعے کاروباری اور تجارتی رابطوں کے مواقع CPEC پروجیکٹ کی وجہ سے پاکستان اب چین ,مڈل ایسٹ۔یورپی اور دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز ہے ۔ تعمیراتی، ڈویلپرز کمپنیوں، رہائشی، صنعتی، تجارتی، زرعی زمین اور مائنز, ریئل اسٹیٹ ایجنسیاں، بینک اور مالياتی ادارے، قانونی مشاورتی فرم، تعمیراتی اور خام مال کے سپلائرز، جوائنٹ ونونچر کی خواہشمند کمپنیاں اور افراد کے لئے سنہری موقع کیا آپ سی پیک سمیت گوادر کے میگا ترقياتی پروجیکٹس میں سرمایہ کاری، سپلائی یا دیگر کاروباری مواقعوں سے استفادہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ انڈسٹریل، کمرشل، زرعی، معدنياتی یا کسی دیگر شعبہ میں اپنے پروجیکٹ کی لئے جوائنٹ ونچر پارٹنر یا غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے متلاشی ہیں؟ کیا آپ گوادر رئیل اسٹیٹس میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ گوادر میں چھوٹے کاروبار، تجارت، دکانیں، ریستوران، ہوٹل، گارمنٹس، ہسپتال، سیاحت ، دوا سازی، لاؤنڈریز، صنعتی یونٹس، بلڈنگ مواد کی فرائمی، تعمیراتی مواد، تعمیراتی ساز و سامان، پٹرولیم مصنوعات، کامرس سروسز اور مشاورتی خدمات کے حصول کے متلاشی ہیں؟
کیا آپ گوادر میں ملازمت اور روزگار کے حصول کے متلاشی ہیں؟ تو پہلی مرتبہ آپ کے لیےسنہری موقع کاروبار ی اور سیاحتی ٹورمیں شامل ہو کر اپنے بزنس پلان اور پروجیکٹ کے لیے چین سمیت مقامی اور غیر ملکی صنعت کاروں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ نہ صرف رسائی حاصل کریں بلکہ گوادر میں سرمایہ کاروں سے براہ راست رابطہ حاصل کریں۔
گوادر میں تین رات رہائش گیٹڈ ایریا ساحلی کیمپنگ/ رہائش فوڈ ناشتہ لنچ ڈنر مقامی نقل و حمل لگژری کوچز ریئل اسٹیٹ منصوبوں کا دورہ دیگر کاروباری مواقع گوادر کوسٹل ہائی وے سیاحتی ٹور ہنگلاج ماتا مندر۔ بورڈنگ اور لاجنگ 3 رات گوادر 1 رات اورمارا S & N PAX & Cargo PVT LTD +92-332-1555260, +92-340-8224033 sovereign.mn@gmail.com A-22 Block-A4 Gulshan-e-Iqbal Abdul Hasan Isphani Road, Karachi

پیر، 30 مارچ، 2020

چین. کرونا وائرس نمٹنے میں کیوں کامیاب ہوا

چین. کرونا وائرس نمٹنے میں کیوں کامیاب ہوا 



تحریر۔ عاشق ہمدانی

  سوشلسٹ نظام حکومت کی وجہ سے ریاست کے پاس عوامی فلاح و بہبود کے بہترین وسائل موجود ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ چین کا سیاسی، معاشی، تعلیمی اور معاشرتی نظام، غیر متوقع یا اچانک پیدا ہونے والے بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے
1974 کے بدترین سیلاب میں پاکستان کے عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس صلاحیت کو عملا دیکھ چکے ہیں، اس وقت صنعت، قدرتی وسائل، بنک، ٹیلی کمیونیکیشن، ائرلائن، شپنگ ،  سکول کالج یونیورسٹیاں، ہسپتال اور دیگر کئی شعبہ جات ریاست کی ملکیت تھے، ریاست عوام کی ضروریات پورا کرنے کی طاقت رکھتی تھی
پاکستان کی اقتصادی تباہی کی ذمہ داری، جنرل ضیاع، نواز شریف  اور  جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں ہونے والی پرائویٹائزیشن ، نجکاری ہے۔
1- جنرل ضیاع کے دور میں ریاستی ملکیت اربوں روپے کے یونٹوں کو محض ایک روپے کے علامتی ٹوکن پر  پرائویٹائز  کئے گے جسکا مفاد آج کی شوگر مافیہ، حکمرانوں کے بچوں ، جنرل ضیاع، جنرل اختر عبدالرحمان، جنرل فضل الحق ، جنرل حمید گل، نوازشریف اور دیگر کاروباری خاندانوں نے اٹھایا۔ جنرل ضیاع کے ان اقدامات، آئین کی آٹھویں ترمیم کے زریعے تحفظ حاصل ہے
2۔ نوازشریف دور میں مسلم کمرشل بنک کی ماسٹر سٹروک کرپٹ نجکاری سے دیگر صنعتی یونٹوں کی پرائویٹائزیشن، اپنے ذاتی مفادات میں اسٹیل بزنس پر مکمل اجارہ داری کے لئے پاکستان اسٹیل مل اور دنیا کی سب سے بڑی شپ بریکنگ گڈانی انڈسٹری کی تباہی، ذاتی بزنس مفاد میں اجرا، سی پیک، ترکی اور شریف خاندان کی تیسری نسل کی بدعنوانیوں کی داستان اس سلسلے کا نسل در نسل عروج ہے۔
3۔ جنرل مشرف کی دور میں پی، ٹی، سی ایل، حبیب بنک اور یونائیٹڈ بنک کی پرائویٹائزیشن اور بدعنوانیوں کی بدترین مثالیں جنہیں آئینی تحفظ حاصل ہے۔
روس، چین اور کیوبا کا طرزعمل سوشلسٹ طرز فکر کی نمائندگی کرتا اور یہ ثابت کرتا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ابھرنے والا یونی پولر ورلڈ کا تصور نہ صرف ناکام ہوگیا ہے بلکہ پرائیوٹازیشن، ڈی ریگولیشن اور نجکاری کی حکمت عملی بھی عام آدمی کی زندگی کو تباہ کر رہی ہے، کیونکہ اس ریاست کی وہ صلاحیت جس سے وہ اپنے شہریوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہے، یکسر ختم ہوکر بھیک مانگنے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
کیا اس بحران سے ہم درج ذیل سبق سیکھ سکتے ہیں ۔
=نجی ملکیت کے بجاۓ اجتماعی عوامی ملکیت
=کاروبار، تعلیم، روزگار اور علاج معالجے کے علاوہ بیرون ملک سفر پر پابندی
ہمسایہ ممالک کے ساتھ شفاف دوستی، امن اور کھلی تجارت
= ترک اسلحہ کے نئے اصول و ضوابط، ایٹمی، کیمیاوی اور حیاتیاتی ہتھیاروں پر مکمل پابندی
=زرعی زمینوں، جنگلات، پانی زندگی اور فطرت کی بقا کے لئے وسائل کا تحفظ
=پرایوٹایزیشن کے ذریعے کی گئی نجکاری کو منسوخ کرکے بھاری صنعت، بینکوں، میگا پروجیکٹ، ہاؤسنگ سوسائٹیاں،  کاروباری ادارے ہوابازی،  ٹیلی کمیونیکیشن اور دیگر  اداروں کو قومی ملکیت میں لے کر وسائل کی عوام کے درمیاں منصفانہ تقسیم = ہر شخص کے لئے روزگار، علاج، تعلیم اور رہائش ریاست کی ذمےداری کے اصول پر
اگر پاکستان کے عوام اور ووٹرز یہ تہیہ کر لیں کہ آئندہ انتخابات میں وہ صرف اسی جماعت کو ووٹ دیں گے جو:
1-گزشتہ 40 سالوں میں ہونے والی پرائویٹائزیشن نجکاری اور میگا پراجیکٹس کا احتساب کرے گی
2۔ پرائویٹائز کۓ جانے والے یونٹوں کو پبلک پرائویٹ پارٹنرشپ کے اصول پر قومی تحویل میں لے گی
3۔ میگا پروجیکٹ، بجلی، گیس، پیٹرولیم کی صرف ریاست کے ذریعے تکمیل اور ترسیل
4۔ برطانوی آبادیاتی ذرعی زمینوں کو کالعدم قرار دے کر کر زمین کو قومی تحویل میں لے کسانوں میں بلا معاوضہ تقسیم کرے گی
5۔ مقامی صنعت کو غیرملکی درآمدات کے خلاف تحفظ فراہم کرے گی
6۔ تعلیمی اداروں، کو قومی تحویل میں لے کر ہر سطح پر مفت تعلیم ریاست کی ذمہ داری قرار دے گی
7۔ تمام ہسپتالوں کو قومی تحویل میں لے کر مفت علاج ریاست کی ذمےداری قبول کرے گی،  فارماسوٹیکل میں جینریک ہیلتھ اسکیم کی بحال کرے گی
یہ وہ اصول ہیں جن پر چین عمل کر رھا ہے
اور یہی وہ اصول ہیں جن کے لئے پاکستان کے عوام نے 1970 کے انتخابات میں، ووٹ دیے تھے، الیکشن جیتنے والی تمام سیاسی جماعتیں، مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ، پنجاب اور سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی پارٹی ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ، اس ایجنڈہ پر متفق تھیں۔ پاکستانی عوام 1972 سے 1977 تک اس نظام سے مستفید تھے، آج بنگلہ دیش ترقی کی جس شاہراہ پر ہے وہ پاکستان کے 1970 کے انتخابات کا نتیجہ ہے، ورنہ حسینہ واجد آج یا تو جیل میں ہوتیں، جلاوطن یا پاکستان میں نیب کے مقدمات بھگت رہی ہوتیں۔ پاکستان کے عوام کے لئے 1970 کے انتخابات میں جو سبق موجود ہے، وہی ان کی ترقی کا راستہ ہے  

پاکستان کے عوام کو یاد رکھنا چاہیے کہ حکومت پاکستان کی ملکیت صنعتی، تجارتی اور کاروباری ادارے ان کی محنت ، ٹیکسوں،،قرضوں، ان کے والدین اور بزرگوں کی محنت کا نتیجہ تھے، جنہیں جنرل ضیاع، نوازشریف اور جنرل مشرف کے ادوار میں ایک روپے کی ٹوکن منی یا اون ہونے داموں اپنے خاندانوں اور قریبی لوگوں اور حامیوں میں تقسیم کیا گیا۔ یہ افراد کسی نہ کسی شکل میں ہر سیاسی جماعت میں شامل ہیں۔
پاکستان کی سول ملٹری اشرافیہ کے دور اقتدار میں  ریاست کے وسائل تباہی و بربادی اور لوٹ مار کے خلاف تحقیقات اور مواخذہ جب تک عوام اور ووٹرز کا ایجنڈا نہیں بنے گا اس وقت تک ان کے مسائل نہیں ہونگے  




آذادی فکر گروپ میں شامل ہو کر آپ ان موضوعات پر گفتگو کر سکتے ہیں

https://chat.whatsapp.com/BN0p7y1B2HlH4241qHJAc9

" آزادی فکر"
سچ کی تلاش آزادی فکرتجربی سوچ کا نتیجہ ہوتی ہے جو عقل' منطق ' علم اور شک کے ا شتراک سے پروان پاتی ہے. یہ وہموں کی بنیاد پر جگہ بنانے والی زہریلی سوچ اور طرز عمل کو للکارتی ہے' جمے ہوے پسماندہ رویوں اور ان میں پوشیدہ طاقتوں کے مفادات کو بےنقاب کرتی ہی. یہ مسائل کو حل کرنے کے روشن خیال 'سیکولر اور سائنسی طریقے اختیار کرتی ہے. یہ آپ سے پوری جرات اور شعور کی بنیاد تجریدی وہموں کو مسترد اور زندگی میں سائنسی اقدار اپنانے کا مطالبہ کرتی ہے. یہ عظیم اخلاقی اقدار کو انسانی اور سماجی ارتقا کا لازمی حصہ مانتی ہے . رنگ' نسل، مذہب اورلسانی شناختوں پر منقسم منافرتوں کو پوری طاقت سے مسترد کرتی ہے. آزادی فکر انسانیت، علم اور سچ کو اپنا اثاثہ مانتی ہے'.آزادی فکر پر آپ کو خوش آمدید ' ہم امید رکھتے ہیں آپ مثبت طرزعمل کے ساتھ علمی' ترقی پسنداور جہموری سوچ کو فروغ دیں گے- ایڈیٹر

جمعہ، 27 مارچ، 2020

کورونا وائرس: لاشوں کی تعداد کتنی ہو تو ہم پھر بھی برداشت کر لیں گے? یورپ بھر میں لاک ڈاؤن



کورونا وائرس: لاشوں کی تعداد کتنی ہو تو ہم پھر بھی برداشت کر لیں گے?
یورپ بھر میں لاک ڈاؤن

جمود کو ابھی صرف دو ہفتے ہوئے ہیں لیکن کرنے والوں نے جمع تفریق شروع کر بھی دی ہے: انسانی ہلاکتوں کی تعداد کا مقابلہ اقتصادی ترقی سے ہے۔ سبھی دیکھنے اور سننے والے بے یقینی سے پوچھنے لگے ہیں کہ ایسا بھلا ہو کیسے سکتا ہے؟
ابھی بمشکل دو ہفتے ہی تو ہوئے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے زندگی تقریباﹰ جمود کا شکار ہو گئی۔ کچھ لوگ اپنے اندازے اور اعداد و شمار ہاتھوں میں لیے ابھی سے یہ حساب کتاب کرنے لگے ہیں کہ انسانی ہلاکتوں اور اقتصادی ترقی کو پہنچنے والے نقصان میں سے بڑا نقصان کون سا ہو گا۔ ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار ہینریک بوئہمے لکھتے ہیں کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں حیرت سے کھلی ہیں اور سننے والوں کو یقین نہیں آ رہا کہ وہ سن کیا رہے ہیں اور یہ ہو کیا رہا ہے؟
جو سوال پوچھا جا رہا ہے، اس کے پیچھے سوچ ایک ہی ہے: یہ کہ ہمارے لیے زیادہ اہم کیا ہے؟ عام انسانوں میں سے ہر ایک کی صحت اور سلامتی یا کسی تباہ کن اقتصادی بحران سے تحفظ؟ یہ وائرس نظر نہ آنے والا ایسا دشمن ہے، جو بہت خطرناک بھی ہے اور جس سے لوگ بہت خائف بھی ہیں۔ اس کا نتیجہ: عام لوگوں کے باہمی رابطے منقطع، گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی، عوامی زندگی جمود کا شکار اور اقتصادی کارکردگی مفلوج
پیرس میں لاک ڈاؤن
فرانسیسی حکومت کی طرف سے گزشتہ جمعرات کو ملکی سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں سیاحوں میں مشہور خوابوں کا شہر پیرس بھی بالکل خاموش ہو گیا ہے۔ پیرس کے مقامی باسیوں کو بھی کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ضروری کام کے علاوہ گھروں سے نہ نکلیں۔ یہ وہ شہر ہے، جس کے کیفے جنگوں میں بھی کبھی بند نہیں ہوئے تھے۔
برلن میں خاموشی کا راج
جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار کے دن سخت اقدامات متعارف کرائے۔ نئے کورونا وائرس پر قابو پانے کی خاطر نو نکاتی منصوبے میں یہ بھی شامل ہے کہ دو سے زیادہ افراد عوامی مقامات پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ لوگوں کو کہا گیا ہے کہ وہ کووڈ انیس کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر آپس میں ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھیں۔ جرمن عوام اس عالمی وبا سے نمٹنے میں سنجیدہ نظر آ رہے ہیں، اس لیے دارالحکومت برلن بھی خاموش ہو گیا ہے۔
غیرملکیوں کے داخلے پر پابندی اور سرحدیں بند
اس عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے برلن حکومت نے غیر ملکیوں کے جرمنی داخلے پر بھی کچھ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ اس قدم کی وجہ سے یورپ کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شمار ہونے والے فرینکفرٹ ایئر پورٹ کی رونق کے علاوہ اس شہر کی سڑکوں پر ٹریفک میں بھی خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔
باویرین گھروں میں
رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے جرمن صوبے باویریا میں گزشتہ ہفتے ہی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ نئے کورونا وائرس سے نمٹنے کی خاطر اس صوبے میں ابتدائی طور پر دو ہفتوں تک یہ لاک ڈاؤن برقرار رہے گا۔ یوں اس صوبے کے دارالحکومت ميونخ میں بھی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے
برطانیہ میں بھی سخت اقدامات
برطانیہ میں بھی تمام ریستوراں، بارز، کلب اور سماجی رابطوں کے دیگر تمام مقامات بند کر دیے گئے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر اور سماجی رابطوں سے احتراز کریں۔ یوں لندن شہر کی طرح اس کی تاریخی میٹرو لائنز بھی سنسان ہو گئی ہیں۔
میلان شہر، عالمی وبا کے نشانے پر
یورپ میں کووڈ انیس نے سب سے زیادہ تباہی اٹلی میں مچائی ہے۔ اس ملک میں دس مارچ سے ہی لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ کوششوں کے باوجود اٹلی میں کووڈ انیس میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ پریشانی کا باعث ہے۔ میلان کی طرح کئی دیگر اطالوی شہر حفاظتی اقدمات کے باعث ویران ہو چکے ہیں۔
ویٹی کن عوام کے لیے بند
اٹلی کے شمالی علاقوں میں اس عالمی وبا کی شدت کے باعث روم کے ساتھ ساتھ ویٹی کن کو بھی کئی پابندیاں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ویٹی کن کا معروف مقام سینٹ پیٹرز اسکوائر عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ اس مرتبہ مسیحیوں کے گڑھ ویٹی کن میں ایسٹر کی تقریبات بھی انتہائی سادگی سے منائی جائیں گی۔
اسپین بھی شدید متاثر
یورپ میں نئے کورونا وائرس کی وجہ سے اٹلی کے بعد سب سے زیادہ مخدوش صورتحال کا سامنا اسپین کو ہے۔ ہسپانوی حکومت نے گیارہ اپریل تک ملک بھر ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ اسپین میں زیادہ تر متاثرہ شہروں مییں بارسلونا اور میڈرڈ شامل ہیں۔
آسٹریا میں بہتری کے آثار
آسڑیئن حکومت کے مطابق ویک اینڈ کے دوران نئے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں کی شرح پندرہ فیصد نوٹ کی گئی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں خاصی کم ہے۔ قبل ازیں یہ شرح چالیس فیصد تک بھی ریکارڈ کی گئی تھی۔ ویانا حکومت کی طرف سے سخت اقدامات کو اس عالمی وبا پر قابو پانے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
بڑی بڑی رقوم
کسی بہت بڑے مالیاتی بحران کے پیش نظر ہوش ربا حد تک زیادہ رقوم کی باتیں کی جانے لگی ہیں۔ امریکا میں دو ٹریلین ڈالر کا اقتصادی پیکج، یورپی مرکزی بینک کی طرف سے ساڑھے سات سو بلین یورو اور جرمن حکومت کی طرف سے چھ سو بلین یورو مالیت کے اقتصادی پیکج کا اعلان۔ یہ جملہ رقوم ادا کون کرے گا؟
اگر یہ نئے قرضے لے کر مہیا کی جائیں گی، تو متعلقہ ممالک شدید حد تک نئے قرضوں کے بوجھ تلے دب جائیں گے۔ اگر حکومتیں یہ وسائل بچت کر کے مہیا کریں گی، تو نقصان پھر عوام کا ہی ہو گا۔ سماجی تحفظ، صحت، تعلیم اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں سرکاری اخراجات میں بچت کی وجہ سے۔
لیکن یہ بات کسی نے نہیں سوچی ہو گی کہ برطانوی طبی ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق، دو ہزار آٹھ سے دو ہزار دس تک کے مالیاتی بحران کے نتیجے میں پانچ لاکھ سے زائد مریض صرف کینسر کا علاج نہ ہونے کی وجہ سے مر گئے تھے۔ تب حکومتوں نے طبی شعبے کے لیے رقوم واضح طور پر کم کر دی تھیں اور بہت سے کارکن ملازمتیں اور کوئی جاب انشورنس نہ ہونے کی وجہ سے بالکل ہی بے یار و مددگار ہو گئے تھے اور ان کا علاج نہ ہو سکا تھا۔
بہت سخت الفاظ اور کڑوا سچ
اب یہ بحث شروع کی جا رہی ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد کس حد تک رہے تو ہم اسے پھر بھی برداشت کر لیں گے؟ یہ سوال یوں پوچھا جانا چاہیے: کسی ایک انسانی جان کی قیمت کیا ہے؟ ایسی باتیں کرنے والوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ہلاکتیں صرف کورونا وائرس کی وجہ سے نہیں ہو ں گی۔ طبی شعبے پر دباؤ بہت بڑھے گا، جیسا کہ اٹلی میں بھی ہوا، تو ہسپتالوں کی مجموعی کارکردگی متاثر ہو گی اور لوگ سرطان، امراض قلب اور دیگر بیماریوں سے بھی زیادہ تعداد میں مرنے لگیں گے۔
کورونا کی وبا کی وجہ سے انسانی ہلاکتوں کے مقابلے میں اقتصادی ترقی کا ذکر کرنے والوں کو شاید علم نہ ہو کہ لندن کے امپیریل کالج کے تیار کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف امریکا ہی میں اس وائرس کی وجہ سے ایک ملین سے زائد ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔
دوسری طرف ایسے لوگوں کو شاید یہ علم بھی نہ ہو کہ فرانس کے شہر میوہل ہاؤزن میں جو لڑکا لاشوں کو تھیلوں میں بند کر کے ٹرانسپورٹ کر رہا تھا، وہ طب کا ایک بیس سالہ طالب علم تھا۔
لاتعداد متاثرین
ہر طرف نظر آنے والا جمود اور اقتصادی تعطل ظاہر ہے بہت بڑا مسئلہ ہے۔  گلی کے کونے پر چھوٹی سی دکان سے لے کر حجام کے سیلون تک، ہوٹلوں سے لے کر کیٹرنگ تک اور بڑے بڑے صنعتی پیداواری اداروں سے لے کر فضائی کمپنیوں تک، ہر کوئی متاثر ہوا ہے۔ لفتھانزا کے تقریباﹰ سبھی مسافر طیارے زمین پر ہیں، فوکس ویگن کی فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔ کورونا وائرس یوں ہمارے معاشروں، سماجی نظاموں اور آزادیوں کو کھا جانے پر اتر آیا ہے۔
ہمیں موجودہ مرحلے میں اس وبا کے خلاف ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ہم جن معاشروں میں رہتے ہیں، وہ خود پسند اور انا پرست معاشرے ہیں۔ انہی معاشروں میں کورونا وائرس نے اپنی تمام تر تباہی کے باوجود سماجی یکجہتی کے جس ننھے سے پودے کو جنم دیا ہے، اس پودے کی حفاظت لازمی ہے۔ اس سماجی یکجہتی کا تحفظ ہی کورونا کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہو سکتا ہے: انسانوں کا متحد ہونا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔ جہاں تک معیشت کا سوال ہے، تو اسے ہم دوبارہ سدھار لیں گے۔ ایسا ہم پہلے بھی کر چکے ہیں۔
ہینریک بوئہمے (م م / ع ا)

جمعرات، 26 مارچ، 2020

کورونا وائرس پھیلنا ہمارے نظاموں ، اقدار اور انسانیت کا امتحان ہے


کورونا وائرس پھیلنا ہمارے نظاموں ، اقدار اور انسانیت کا  
امتحان ہے
مشیل بیچلیٹ ہائی کمشنر اقوام متحدہ براہ انسانی حقوق کے ہائی کمشنر ۔ 
فلپو گرانڈی۔ ہائی کمشنر اقوام متحدہ براہ مہاجرین  

 اگر کبھی ہمیں یہ یاد دلانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ ہم ایک
 باہم جڑے ہوئے عالم میں رہتے ہیں ، تو ناول کورونویرس اس گھر کو لے کر آیا ہے۔
 کوئی بھی ملک تن تنہا اس سے نبردآزما نہیں ہوسکتا ، اور اگر ہم اس عالمی چیلنج کو موثر انداز میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو ہمارے معاشروں کے کسی بھی حصے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
 کوویڈ ۔19 نہ صرف ہمارے صحت کی دیکھ بھال کے نظام اور متعدی بیماریوں کا جواب دینے کے طریقہ کار کا ہی ایک امتحان ہے ، بلکہ مشترکہ چیلنج کا سامنا کرتے ہوئے اقوام کی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ہماری صلاحیت کا بھی ہے۔
 یہ معاشرتی اور معاشی ترقی کے کئی دہائیوں کے فوائد ہمارے معاشروں کے حاشیے پر رہنے والوں تک پہنچ چکے ہیں ، جو اقتدار کے اقتدار سے دور ہے۔
 آنے والے ہفتوں اور مہینوں سے قومی بحران کی منصوبہ بندی اور شہری تحفظ کے نظام کو چیلنج کیا جائے گا - اور یقینی طور پر صفائی ستھرائی ، رہائش اور دیگر عوامل میں کوتاہیاں سامنے لائیں گی جو صحت کے نتائج کی شکل دیتے ہیں۔۔"
 اس وبا کے بارے میں ہمارا ردعمل لازمی ہے - اور در حقیقت ، ان لوگوں پر توجہ مرکوز کریں - جن کو معاشرہ اکثر نظرانداز کرتا ہے یا کسی کم حیثیت سے رجوع کرتا ہے۔  ورنہ ، یہ ناکام ہوجائے گا۔
 ہر فرد کی صحت معاشرے کے انتہائی پسماندہ افراد کی صحت سے منسلک ہے۔  اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ل all سبھی تک رسائ کی ضرورت ہے ، اور علاج تک مساوی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔
 اس کا مطلب یہ ہے کہ آمدنی ، صنف ، جغرافیہ ، نسل اور نسل ، مذہب یا معاشرتی حیثیت پر مبنی سستی ، قابل رسائی صحت کی دیکھ بھال ، اور طویل المیعاد امتیازی سلوک سے نمٹنے کے لئے موجودہ رکاوٹوں پر قابو پانا۔
 خواتین اور لڑکیوں کے حقوق اور ضروریات کو نظرانداز کرنے والے سیسٹیمیٹک تعصبات پر قابو پانا ، یا - مثال کے طور پر - اقلیتی گروپوں کی محدود رسائی اور شرکت ، کوویڈ 19 کے موثر روک تھام اور علاج کے لئے انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔
 اداروں میں رہنے والے افراد - عمر رسیدہ افراد یا نظربند افراد - انفیکشن کا زیادہ خطرہ ہونے کا امکان رکھتے ہیں اور ان کو خاص طور پر بحران کی منصوبہ بندی اور جواب میں توجہ دینا چاہئے۔
 تارکین وطن اور پناہ گزینوں - ان کی رسمی حیثیت سے قطع نظر ، قومی نظام اور وائرس سے نمٹنے کے منصوبوں کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔  ان میں سے بہت ساری عورتیں ، مرد اور بچے اپنے آپ کو ایسی جگہوں پر پاتے ہیں جہاں صحت کی خدمات بہت زیادہ پائی جاتی ہیں یا ان تک رسائی نہیں ہوتی ہے۔
 وہ کیمپوں اور بستیوں تک ہی محدود ہوسکتے ہیں ، یا شہری کچی آبادیوں میں رہتے ہیں جہاں پر بھیڑ بھاڑ ، اور صفائی کے ناقص انتظام کی وجہ سے ، اس سے نمائش کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
 "کورونا وائرس بلا شبہ ہمارے اصولوں ، اقدار اور مشترکہ انسانیت کی بھی جانچ کرے گا۔"
 مہاجرین اور مقامی برادریوں دونوں کے لئے - اور ان کی قومی نگرانی ، روک تھام اور رد عمل کے انتظامات میں میزبان ممالک کو خدمات میں اضافے کے لئے بین الاقوامی تعاون کی فوری ضرورت ہے۔  ایسا کرنے میں ناکامی سب کی صحت کو خطرہ بنائے گی - اور عداوت اور بدنامی کو بڑھانے کا خطرہ ہے۔
 یہ بھی ضروری ہے کہ سرحدی کنٹرولوں ، سفری پابندیوں یا نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیوں کو سخت کرنے سے ان لوگوں کو روکا نہ جا do جو جنگ یا ظلم و ستم سے بھاگ رہے ہوسکتے ہیں انھیں حفاظت اور تحفظ تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔
 ان فوری طور پر چیلنجوں سے بالاتر ، کورونا وائرس کا راستہ بلاشبہ ہمارے اصولوں ، اقدار اور مشترکہ انسانیت کی بھی آزمائش کرے گا۔
 پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے ، انفیکشن کی تعداد کے گرد غیر یقینی صورتحال اور کئی مہینے باقی ایک ویکسین کے ساتھ ، وائرس افراد اور معاشروں میں شدید خوف اور اضطراب پیدا کررہا ہے۔
 کچھ بےاختیار لوگ بلاشبہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ، حقیقی خدشات میں اضافہ اور خدشات کو بڑھاوا دیتے ہیں۔
 جب خوف اور غیر یقینی صورتحال مبتلا ہوجاتی ہے تو قربانی کے بکرے کبھی دور نہیں ہوتے ہیں۔  ہم مشرقی ایشیائی نسل کے کچھ لوگوں پر ناراضگی اور دشمنی دیکھ چکے ہیں۔
 اگر کسی طرح سے باز نہیں آتے ہیں تو ، الزام عائد کرنے اور خارج کرنے کی خواہش جلد ہی دوسرے گروہوں یعنی اقلیتوں ، پسماندہ طبقے یا کسی کو بھی "غیر ملکی" کے نام سے لیبل لگا سکتا ہے۔
 مہاجرین سمیت اس اقدام پر آنے والے لوگوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔  پھر بھی خود کورونا وائرس امتیاز نہیں کرتا ہے۔  آج تک متاثرہ افراد میں تعطیل ساز ، بین الاقوامی کاروباری افراد اور یہاں تک کہ قومی وزرا شامل ہیں ، اور وہ تمام براعظموں میں پھیلے ہوئے درجنوں ممالک میں واقع ہیں۔
 گھبراہٹ اور امتیازی سلوک نے کبھی بھی بحران حل نہیں کیا۔  سیاسی رہنماؤں کو لازم ہے کہ وہ شفاف اور بروقت معلومات کے ذریعے اعتماد حاصل کریں ، مشترکہ بھلائی کے لئے مل کر کام کریں ، اور لوگوں کو صحت کے تحفظ میں حصہ لینے کے لئے بااختیار بنائیں۔
 افواہوں کی جگہ پیدا کرنے سے ، خوف میں مبتلا ہونے اور ہسٹیریا سے نہ صرف ردعمل میں رکاوٹ ہوگی بلکہ انسانی حقوق ، جوابدہ ، جمہوری اداروں کی کارگردگی کے وسیع اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
 آج کوئی بھی ملک لفظی معنوں میں اور - اسٹاک مارکیٹوں کے گرتے ہوئے اور بند اسکولوں کا معاشی اور معاشرتی طور پر مظاہرہ کرتے ہوئے ، کورونا وائرس کے اثرات سے خود کو ختم نہیں کرسکتا۔
 ایک بین الاقوامی ردعمل جو یہ یقینی بناتا ہے کہ ترقی پذیر ممالک اس بیماری کی تشخیص ، علاج اور روک تھام کے لیس ہیں وہ اربوں لوگوں کی صحت کی حفاظت کے ل. بہت اہم ہوگا۔
 عالمی ادارہ صحت مہارت ، نگرانی ، نظام ، معاملے کی تفتیش ، رابطے کا سراغ لگانے ، اور تحقیق اور ویکسین کی ترقی مہیا کررہا ہے۔  یہ سبق ہے کہ بین الاقوامی یکجہتی اور کثیر جہتی نظام پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
 طویل المدت میں ، ہمیں لازمی اور قابل رسائی صحت عامہ کی تعمیر کے کام کو تیز کرنا ہوگا۔  اور اب ہم اس بحران کا کیا جواب دیں گے ، بلاشبہ آنے والی دہائیوں سے ان کوششوں کو شکل دیں گے۔
 اگر کورونا وائرس کے بارے میں ہمارا جواب عوامی اعتماد ، شفافیت ، احترام اور سب سے زیادہ کمزور لوگوں کے لئے ہمدردی کے اصولوں پر مبنی ہے تو ہم نہ صرف ہر انسان کے اندرونی حقوق کو برقرار رکھیں گے۔  ہم یقینی بنائیں گے کہ ہم اس بحران کو دور کرسکیں اور مستقبل کے لئے سبق سیکھیں۔

بدھ، 25 مارچ، 2020

دنیا اپنے خاتمے کی طرف گامزن ہے اور وہ دن قریب ہیں جب "مسیحا" زمین پر اترے گا اسرائيلی وزیر صحت

اسرائیل کے وزیر صحت یعقوب لٹزمان کا یے کہ کورونا وائرس کا بحران اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا اپنے خاتمے کی طرف گامزن ہے اور وہ دن قریب ہیں جب "مسیحا" زمین پر اترے گا اور یہودی برادری کی حالت زار کو دور کرے گا۔

اس انٹرویو ميں یعقوب لٹزمان نے مزيد کہا، "ہم دعا اور امید کر رہے ہیں کہ مسیحا فسح (جو یہودیوں کا آمد بہارکا تہوار ہے) کے موقع پر پہنچے گا، جو ہماری نجات کا وقت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مسیحا آئے گااور جس طرح خدا ہمیں مصر سے نکال لایا تھا اسی طرح ہم و باہر لے آئے گا۔”  یعقوب لٹزمان کا مزيد کہنا تھا، "جلد ہی ہم آزادی کے ساتھ نکلیں گے اور مسیحا ہميں دنیا کیديگر تمام پریشانیوں سے نجات دلائے گا۔” لٹزمان، جو الٹرا آرتھوڈوکس یونائیٹڈ تورہ یہودی پارٹی کے سربراہ ہيں، اسرائیل میں بنجمن نیتنیاہو حکومت کے ایک اہم رکن مانے جاتے ہيں۔

یہودیوں کا مسیحا کے بارے ميں عقيدہ
يہودی عقیدے کے مطابق، مسیحا داؤدی نسل سے تعلق رکھنے والا مستقبل کا یہودی بادشاہ ہو گاجو اسرائیل کو کسی بڑی تباہی سے بچائے گا۔ یہودی عقيدے کے تحت يہ مسیحا "ایک نجات دہندہہے جو اختتام پر ظاہر ہو گا اور خدا کی بادشاہی میں داخل ہوگا"۔ یہودیوں کا ماننا ہے کہ مسیحاکی آمد قیامت سے پہلے ہی دنیا کو آخری مرحلے کی طرف لے جائے گی۔

اسرائیل کے وزیر صحت کے یہ بيانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب اسرائیل میں کوروناوائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد سولہ سو سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ کووڈ انیس سے کم سےکم ایک مریض کی موت کی تصدیق ہوچکی ہے۔

دريں اثناء اسرائیل ميں کم سے کم 8 اپریل تک ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر ديا گيا ہے۔

گائے کا پیشاب پینے کی تقریب۔

گائے کا پیشاب پینے کی تقریب
’آل انڈیا ہندو یونین‘ نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہفتے کے دن کورونا وائرس سے بچنے کی خاطر گائے کا پیشاب پینے کی ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا، جس میں کم ازکم دو سو ہندو افراد شریک ہوئے۔

پاکستان میں کرونا وائرس : مریضوں کی تعداد 2 کروڑ تک پہنچنے کا خدشہ


ڈان نیوز کی ایک تحقیقی رپورٹ میں طبی ماہرين اور محققين نے خدشات کا اظہار کيا ہے کہ اگر حکومت پورے ملک میں بڑے پیمانے پر کورونا وائرس کے پھيلاؤ کو قابو ميں رکھنے کے ليے  ٹيسٹ نہیں کرواتی ہے تو اپریل کے وسط تک پاکستان میں اسی ہزار سے زائد کورونا وائرس کیسز ہو سکتے ہیں اور یکم جون تک یہ تعداد بڑھ کر  بیس ملین تک پہنچ سکتی ہے۔


دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اس وبائی مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ اب یہ تعداد بڑھ کر نو سو کے قریب پہنچ چکی ہے۔

اس وائرس سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہے، جہاں متاثرین کی تعداد  تین سو چورانوے ہے جبکہ پنجاب میں یہ تعداد  دو سو انچاس بتائی جا رہی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں ایک سو دس جبکہ خیبرپختونخوا میں اڑتیس افراد اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا کے کم از کم  پندرہ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پاکستان ميں کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کے ليے کيے جانے والے حکومتی اقدامات کے ناکافی ہونے کے سبب ماہرين تشويس کا اظہار کر رہے ہيں۔

اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی بھی وقت پھيلنے والے وبائی امراض کے دوران، کسی آبادی میں اصل متاثرہ کیسز لیب سے تصدیق شدہ کیسز سےآٹھ سے دس گنا زیادہ ہوتے ہيں۔

دريں اثناء آج منگل کو پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے  چودہ روزہ لاک ڈاؤن کا آغاز ہو گيا ہے۔

منگل، 24 مارچ، 2020

دنیا کے 20 ممالک کورونا وائرس سے پاک । تاجکستان اور ترکمانستان شامل |

    دنیا کے  20  ممالک کورونا وائرس  سے پاک 
 تاجکستان اور ترکمانستان  شامل |  

 افریقی براعظم میں کورونا وائرس سے پاک ممالک کی سب سے زیادہ تعداد ہے: لیبیا ، مغربی صحارا ، سیرا لیون ، گیانا بساؤ ، نائجر ، برونڈی ، مالاوی ، موزمبیق ، بوٹسوانا ، جنوبی سوڈان میں 24 مارچ تک کوئی کیس نہیں رپورٹ ہوئے۔ مغربی دنیا میں گرین لینڈ کے جزیرے سمیت  جس کی آبادی 50 ہزار افراد پر مشتمل ہے'  کورونا وائرس سے پاک   کوئی  مل نہیں بچا- ایشیاء میں متعدد ممالک - شمالی کوریا ، لاؤس ، تاجکستان ، ترکمنستان اور یمن - کورونا وائرس سے پاک ہیں۔ان میں سے کچھ لیبیا ، جنوبی سوڈان اور یمن میں مسلح تنازعات جاری ہیں۔  23 مارچ تک ، دنیا بھر میں کورون وائرس کے لئے 350،000 افراد شکار تھے  اور  15،000سے زیادہ افراد وفات پا چکے ہیں ۔

اتوار، 21 اپریل، 2019


بین الاقوامی مالیاتی فنڈ


بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف (انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ:IMF)
 ایک عالمی مالیاتی ادارہ ہے جو ملکی معیشتوں اور انکی باہمی کارکردگی بالخصوص زر مبادلہ، بیرونی قرضہ جات پر نظررکھتا ہے اور انکی معاشی فلاح اور مالی خسارے سے نبٹنے کے لیے قرضے اور تیکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے بہت سے یورپی ممالک کا توازن ادائیگی کا خسارہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے ممالک کی مدد کرنے کے لیے یہ ادارہ وجود میں آیا۔ یہ ادارہ جنگ عظیم دوم کے بعد بریٹن وڈز کے معاہدہ کے تحت بین الاقوامی تجارت اور مالی لین دین کی ثالثی کے لیے دسمبر 1945 میں قائم ہوا۔ اس کا مرکزی دفتر امریکہ کے دار الحکومت واشنگٹن میں ہے۔ اس وقت دنیا کے 185 ممالک اس کے رکن ہیں۔ شمالی کوریا، کیوبا اور کچھ دوسرے چھوٹے ممالک کے علاوہ تمام ممالک اس کے ارکان میں شامل ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر بڑی طاقتوں کا مکمل راج ہے جس کی وجہ اس کے فیصلوں کے لیے ووٹ ڈالنے کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ یہ ادارہ تقریباً تمام ممالک کو قرضہ دیتا ہے جو ان ممالک کے بیرونی قرضہ میں شامل ہوتے ہیں۔ ان قرضوں کے ساتھ غریب ممالک کے اوپر کچھ شرائط بھی لگائی جاتی ہیں جن کے بارے میں ناقدین کا خیال ہے کہ یہ شرائط اکثر اوقات مقروض ملک کے معاشی حالت کو بہتر بنانے کی بجائے اسے بگاڑتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے بین الاقوامی اداروں کے ڈھانچے کو بدلنے کی ضرورت وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
تاریخ
1930
 کے معاشی مسائل اور اس کے بعد دوسری جنگ عظیم نے یورپی ممالک کی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا۔ خصوصاً جنگ کے اخراجات کی وجہ سے ان کا ادائیگیوں کا توازن بہت بگڑ گیا۔ اس کے علاوہ برطانیہ نے جنگی اخراجات سے نبٹنے کے لیے خوب نوٹ چھاپے جو اس اصول کے خلاف تھے کہ نوٹ چھاپنے میں اس بات کو مدِ نظر رکھا جائے کہ بنک آف انگلینڈ کے پاس سونے کے ذخائر کتنے ہیں۔ برطانیہ کے زرِ مبادلہ برطانوی پونڈ پر دوسرے ممالک کا اعتماد کم ہو گیا۔ اس وقت پونڈ کو بین الاقوامی مالیاتی معاملات میں مرکزیت حاصل تھی جو ختم ہو رہی تھی۔ بریٹن ووڈز کا معاہدہ جو 1945 میں ہوا، اس کے مطابق ایک ایسے ادارہ کی ضرورت تھی جو مندرجہ ذیل کام کرے

دنیا کے لیے ایک نیا اور پراعتماد مالیاتی نظام تشکیل دے۔
ان ممالک کی مدد کرے جو توازنِ ادائیگی کے مسائل کا شکار ہیں۔
ارکان ممالک کی زر مبادلہ کی شرح کا درست تعین کرنا اور اس کے لیے ایک نظام وضع کرنا۔
چنانچہ دسمبر 1945 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا قیام عمل میں آیا۔ ابتدا میں اس کے 29 ارکان تھے جن میں کیوبا شامل تھا جو بعد میں نکل گیا۔
شروع میں تمام کھاتے امریکی ڈالر میں لکھے جاتے تھے۔ ان کھاتوں میں مختلف ممالک نے ایک دوسرے کو جو ادائیگیاں کرنا ہوں، ان کو جمع یا تفریق کیا جاتا ہے۔ بریٹن ووڈز کے معاہدے کے تحت امریکا نے وعدہ کیا تھا کہ چونکہ اب امریکی ڈالر کو بنیادی کرنسی کی حیثیت حاصل ہے اس لیے ڈالر کی قیمت (جو سونے کے حساب سے مقرر ہوتی ہے) میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ مگر امریکا کے توازن ادائیگی کے بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے 1972 میں امریکا کے صدر نکسن نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے ڈالر کی قیمت میں کمی کر دی (35 ڈالر فی اونس سونے سے 38 ڈالر فی اونس سونا )۔ اس سے بریٹن ووڈز کا نظام تباہ ہو گیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے ایک نیا طریقہ وضع کیا جس میں ڈالر کی جگہ ایس۔ڈی۔آر (Special Drawing Rights:SDR) کا استعمال شروع کیا۔ ایس۔ ڈی۔ آر (SDR) کسی ملک کا روپیہ نہیں بلکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں کھاتوں کی جمع تفریق کا ایک نظام ہے۔ ایس۔ ڈی۔ آر (SDR) کی مالیت کا انحصار صرف ڈالر پر نہیں بلکہ کئی ملکوں کے زرِ مبادلہ پر ہے۔ اس سے اگر کسی ایک ملک کے زرِمبادلہ میں کوئی تبدیلی ہو تو ایس۔ ڈی۔ آر (SDR) پر بہت زیادہ اثر نہیں ہوتا۔ اور رکن ممالک کے کھاتے ڈالر کی قیمت میں تبدیلی کے اثر سے محفوظ رہتے ہیں۔
جب 1969 میں ایس ڈی آر پہلی دفعہ متعارف کیا گیا تو یہ بھی 0.888671 گرام سونے کے برابر تھا جو اسوقت ایک ڈالر کا ہوتا تھا۔ 1974 میں ایس ڈی آر کا تعلق سونے سے ختم کر کے 16 کرنسیوں کی باسکٹ سے کر دیا گیا۔ 1981 میں اس باسکٹ سے 11 کرنسیاں نکال دی گئیں اور صرف پانچ باقی بچیں۔1999 میں یورو بننے کے بعد جرمن مارک اور فرانسیسی فرانک کی جگہ یورو کو مل گئی۔ اب ایس ڈی آر صرف آئی ایم ایف کے ارکان ممالک کے “اعتبار“ پر انحصار رکھتا ہے۔شروع میں ایک ایس۔ ڈی۔ آر کی قیمت 1.44 ڈالر کے برابر تھی۔ رکن ممالک کو تو ڈالر، پونڈ یا ین وغیرہ ہی ملتے ہیں مگر اس کا اندراج بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے کھاتوں میں ایس۔ ڈی۔ آر میں کیا جاتا ہے۔
جس طرح مختلف ممالک کے نجی سینٹرل بینک ہوا میں سے کاغذی کرنسی تخلیق کرتے ہیں اسی طرح بین الاقوامی مالیاتی فنڈ بغیر کسی اثاثوں کے ایس ڈی آر تخلیق کرتا ہے اور رکن ممالک کو مجبور کیا گیا ہے کہ وہ اسے بطور کرنسی قبول کریں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو جو گورنر کنٹرول کرتے ہیں وہ مختلف نجی مرکزی بینکوں کے سربراہ یا ان کے خاص آدمی ہیں۔
ممالک کا کوٹہ
کوٹہ تین چیزوں کی بنا پر مقرر ہوتا ہیں یعنی کسی ملک کی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کتنی ہے، بیرونی ذرائع مبادلہ کے ذخائر کتنے ہیں اور برامدات و درامدات کی مقدار کیا ہے۔ انہی کی بنیاد پر کسی رکن ملک کے ووٹوں کی تعداد کا تعین ہوتا ہے۔ اپنے کوٹہ کے برابر رقم تسلیم شدہ زرِمبادلہ میں یا سونے کی صورت میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاس رکھنا ہوتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں رائے شماری کا طریقہ
آئی ایم ایف میں ایک ملک کو ایک ووٹ حاصل نہیں ہے بلکہ ووٹ تین چیزوں کی بنا پر مقرر ہوتے ہیں یعنی کسی ملک کی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کتنی ہے، بیرونی ذرائع مبادلہ کے ذخائر کتنے ہیں اور برامدات و درامدات کی مقدار کیا ہے۔ اس طریقہ کی وجہ سے غریب ملکوں کے ووٹوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ صرف امریکا کے ووٹ کل ووٹوں کا تقریباً 18 فی صد بنتے ہیں۔ اگر ہم پانچ بڑے ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، جاپان اور چین کے ووٹ جمع کریں تو وہ ووٹوں کی کل تعداد کے 40 فی صد کے قریب بنتے ہیں۔ سب سے بڑے تقریباً 20 صنعتی ممالک بشمول پہلے بتائے گئے پانچ ممالک کے پاس کل ووٹوں کی کل تعداد کا 70 فی صد کے قریب ہے یعنی ایک طرح سے وہ جو چاہے کر سکتے ہیں۔ 
ریاستہائے متحدہ امریکا کے ووٹوں کی تعداد بھی قابلِ غور ہے۔ 

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضے
کوئی بھی ملک اپنے کوٹہ کے پچیس فی صد کے برابر قرضہ صرف ادائیگیوں کے توازن کو درست کرنے کے لیے حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ غریب ممالک غربت میں کمی کے پروگرام ( Poverty Reduction and Growth Facility۔PRGF) کے تحت منڈی سے سستے قرضے حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید قرضے جو تمام ممالک حاصل کر سکتے ہیں کچھ یوں ہیں

ھنگامی صورت حال کے قرضے ( Stand-By Arrangements۔SBA)
توسیعی قرضہ کی سہولت (Extended Fund Facility ۔EFF)
اضافی احتیاطی سہولت (Supplemental Reserve Facility۔SRF)
مشروط قرضوں کی سہولت (Contingent Credit Lines۔CCL)
برامدات میں کمی کی تلافی کے لیے قرضہ کی سہولت (Compensatory Financing Facility۔CCF)
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی کارکردگی
تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جن ممالک نے مکمل طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے قرضے حاصل کیے اور ان کے ساتھ ملحق شرائط کو من و عن نافذ کیا وہ معاشی طور پر تباہ ہو گئے۔ یہ بات لاطینی امریکہ کے ممالک پر صادق آتی ہے جن کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کی وجہ سے 1980 کی دہائی میں مالیاتی بحران کا شکار ہونا پڑا۔ 1997 کے جنوب مشرقی ایشیا کے مالیاتی بحران کو بھی ان پالیسیوں کا نتیجہ کہا جاتا ہے جو ان ممالک نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے کہنے پر نافذ کیے تھے۔ ترقی پزیر ممالک کو شکایت ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ غریب ملکوں میں بجلی اور ذرائع رسل و رسائل و مواصلات کی قیمت کے بڑھنے کی ذمہ دار ہے۔ مثلاً پاکستان کو دیے جانے والے قرضوں کے ساتھ جو شرائط رکھی جاتی ہیں ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ٹیلی فون کی اور بعض دوسری اشیاء مثلاً پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھائی جائے۔ اس کا براہ راست اثر غریب لوگوں اور غربت پر پڑتا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی واحد کامیابی 1940 کے آخر اور 1950 کی دہائی میں ان مغربی ممالک کی تعمیر و مدد ہے جو دوسری جنگِ عظیم سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ ان ممالک میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔ بعض لوگ اس بات کو بھی کامیابی سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے دنیا کو ایک مالیاتی نظام دیا جو امریکی ڈالر پر انحصار کرتا ہے۔ مگر دنیا یہ بھی دیکھ چکی ہے کہ یہ نظام بھی کامیابی سے نہیں چل سکا اور دنیا کو جلد ایک نئے نظام کو وضع کرنا پڑا جس میں زرِمبادلہ کی قیمت آزاد بنیادوں پر رسد و طلب کے مطابق متعین ہوتی ہے۔ معیشت دانوں کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے منصوبے افراطِ زر پیدا کرتے ہیں جو تیسری دنیا کے ممالک کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بہت زیادہ متاثرین میں ارجنٹائن، نائجیریا، نائجر اور صومالیہ بھی شامل ہیں۔

قرض دینے کی شرائط
ناقدین کے نزدیک آئ ایم ایف کا کردار ایک بین الاقوامی پولیس والے جیسا ہے۔ آئ ایم ایف غریب ممالک کو ان شرائط پر قرض دیتا ہے۔

سود کی شرح میں اضافہ کیا جائے۔ اس سے غربت بڑھ جاتی ہے۔
ٹیکس بڑھایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے۔ اس سے عوامی سہولیات میں کمی آتی ہے اور بے روزگاری بڑھتی ہے۔
زیادہ سے زیادہ قومی اداروں کی نجکاری کی جائے۔ اس سے ملکی اثاثے غیر ملکیوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔
بین الاقوامی سرمائے کی ملک میں آمد و رفت پر سے تمام پابندیاں ہٹا لی جائیں۔ اس سے اسٹاک مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
بین الاقوامی بینکوں اور کارپوریشنوں کو زیادہ سے زیادہ آزادی دی جائے۔ اس سے ملکی صنعتیں مفلوج ہو جاتی ہیں۔
اس کے بعد ان غریب ممالک کو بس اتنی رقم مزید قرض دی جاتی ہے کہ وہ اپنے موجودہ بین الاقوامی قرضوں کا سود ادا کر سکیں۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں ملکی دولت آئی ایم ایف کے پاس چلی جاتی ہے اور یہ سب جمہوریت کی آڑ میں ہوتا ہے۔

سن 2008 کے بین الاقوامی مالیاتی بحران میں صرف دو ممالک زیادہ متاثر نہیں ہوئے۔ یہ ہندوستان اور چین تھے۔ ان دونوں ممالک میں آئ ایم ایف کا اثر رسوخ بہت کم ہے۔

آئی ایم ایف کی سربراہ کا بیان
  (Christine Lagarde)آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لگارڈی
 نے بیان دیا تھا کہ "جب آئی ایم کے اطراف کی دنیا پر زوال آتا ہے تو ہم ترقی کرتے ہیں۔ اُس وقت ہم بہت فعال ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم قرضے دیتے ہیں۔ ہمیں سود، فیس اور بہت کچھ ملتا ہے اور ادارے کو خوب منافع ہوتا ہے۔ لیکن جب دنیا بہتری کی جانب گامزن ہوتی ہے اور سالوں تک ترقی ہوتی ہے جیسا کہ 2006-2007 میں ہوا تھا تو آئی ایم ایف کی کارکردگی مالیاتی اور دیگر لحاظ سے گر جاتی ہے ۔"
"When the world around the IMF goes downhill, we thrive. We become extremely active because we lend money, we earn interest and charges and all the rest of it, and the institution does well. When the world goes well and we’ve had years of growth, as was the case back in 2006 and 2007, the IMF doesn’t do so well both financially and otherwise."

عدالت اور کرسٹین لگارڈی
آئی ایم ایف کی سربراہ Christine Lagarde دس سال پہلے فرانس کی وزیر خزانہ تھی۔ 19 دسمبر 2016 ء کو فرانس کی ایک عدالت نے اسے ایک مقدمے میں قصور وار قرار دیا مگر نہ کوئی سزا دی نہ جرمانہ کیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرق کی طرح مغرب میں بھی قانون بڑے لوگوں کو سزا نہیں دے سکتا۔

اقتباس
"اگر سینٹرل بینکوں کا کوئی سربراہ ہے تو وہ آئی ایم ایف ہے۔"
"If central banks had a boss, it would be the IMF"
اگر آپ کے پاس دس بکریاں ہیں تو ایک ہم لے لیں گے۔
the IMF has already proposed a 10% wealth tax on NET wealth for everyone.

اتوار، 12 اگست، 2018

ایک خطہ ۔۔۔۔۔ایک شاہراہ ؛ عالمگیریت کا چینی تصور

ایک خطہ ۔۔۔۔۔ایک شاہراہ ؛ عالمگیریت کا چینی تصور

عاشق ہمدانی  اتوار 4 ستمبر 2016
https://www.express.pk/story/595492/

اوبر ایک طویل المدتی پراجیکٹ ہے۔ اس میں شریک ممالک کے حوالے سے چین کئی طرح چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔

چین کے عظیم رہنما، ڈینگ ذیاؤ پنگ نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ’’جب ہزاروں کی تعداد میں بیرون ملک، زیر تعلیم طالب علم اپنے وطن واپس لوٹیں گے، تو چین اپنے آپ کو مکمل تبدیل کرے گا‘‘۔ ایک ایسے وقت میں جب، مغرب کے ماہرین مشرق، چین کے مستقبل کے بارے میں خدشات کا شکار تھے، چین اپنے مستقبل کے لیے مکمل طور پر پرامید تھا۔ مغربی رویوں کی ایک جھلک، 31 اکتوبر 1974 کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور امریکی وزیر خارجہ ہنری کیسنجرکے درمیان ہونے والی درج ذیل گفت گو کے اقتباس سے ملتی ہے۔
کیسنجر: چین میں اس وقت کیا ہو رہا ہے؟ میں اس سال کے آخر میں چین کا دورہ کروں گا، مگر میری ابھی تک ماؤ اور چواین لائی کے علاوہ کسی اور چینی رہنما سے کوئی سنجیدہ ملاقات نہیں ہو سکی اور وہ دونوں بہت بیمار ہیں۔
بھٹو: میں مئی میں وہاں گیا تھا اور ماو سے ملا تھا، وہ بالکل ٹھیک تھے۔

کیسنجر:میں نے بھی اُسے ہمیشہ ٹھیک ہی پایا ہے، دنیا میں بہت کم سربراہان مملکت ایسے ہیں جو اُس کی طرح مذاکرات میں مہارت رکھتے ہیں، مجھے اندازہ نہیں کہ جب یہ دونوں نہیں ہوں گے تو کیا ہو گا؟
بھٹو: سوویتس بہت پرامید ہیں کہ چین مختلف حصوں میں بٹ جائے گا، فوجی جنتا، متحارب وار لارڈز میں تبدیل ہو جائے گی مگر میں جانتا ہوں کہ چین طویل عرصہ سے ارتقائی تبدیلی کی تیاری کر رہا ہے اور میں اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ سوویتس اس بارے میں درست ہو سکتے ہیں۔

کیسنجر: میرے پاس اس حوالے سے کہنے کو الفاظ نہیں مگر بہت سے ملٹری کمانڈرز کو اُن کی جگہوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اگر چین میں فوج اقتدار پر قبضہ کرلے تو یہ میرے لیے انتہائی حیرت کی بات ہوگی تاہم اس حوالے سے کوئی بھی اندازہ لگانا میرے لیے ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ میں چین کی حرکیات کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا۔


معروف اسکاٹش فلسفی ایڈم اسمتھ نے اٹھارہویں صدی میں چین کے بارے میں اپنی معروف کتاب Wealth of the Nations میں لکھا تھا کہ ’’وقت آئے گا، جب چین دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک، سب سے زیادہ زرخیز، بہترین زرعی پیداوار، صنعتی طور پر ترقی یافتہ، خوشحال اور شہری سہولتوں کا حامل ملک ہو گا۔‘‘

گزشتہ تین دہائیوں میں چین نے زرعی معیشت کو ترقی یافتہ صنعتی معیشت میں تبدیل کیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اس وقت امریکا کے بعد دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ 1949 میں چین کی کمیونسٹ پارٹی نے چیئرمین ماؤ کی قیادت میں، انقلاب کے ذریعے ملک کے جاگیردارانہ ڈھانچہ کو توڑا، زمین اور وسائل کو قومی ملکیت میں لے کر صنعتی ترقی کا آغاز کیا۔انقلاب کے بعد کی نسل نے بے پناہ قربانیاں دیں، پوری قوم نے ایک لباس، ایک سائیکل، ایک جیسی تعلیم اور انتہائی لگن سے تعمیرنو کا آغاز کیا۔ چیئرمین ماؤ سے ایک عام مزدور، کسان کی ذاتی زندگی تک کوئی نمایاں فرق نہ تھا۔ امریکا اور سوویت یونین، دونوں ہی چین کے بدترین دشمن تھے حتیٰ کہ 1972 تک چین کو اقوام متحدہ کی رکنیت تک نہ حاصل ہو سکی۔

1978 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی گیارہویں کانگریس نے کامریڈ ڈینگ زیاؤ پنگ کی قیادت میں چین کے کمیونسٹ نظام میں اصلاحات کا عمل شروع کیا۔ انہوں نے چینی انقلاب کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعاتی معیشت کے حوالے سے بنیادی اصول متعین کیے۔ ڈینگ زیاؤ پنگ نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے لیے مارکسی بستی اور فکر ماؤکی تشکیل نو، سماجی اور اقتصادی اصلاحات اور زمیں لباسی حقائق کو ملک، قوم اور پارٹی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ اس طرح چین میں یک رفتار صنعتی ترقی کے لیے ریاستی اور غیر ملکی شراکت کے ساتھ سرمایہ کاری کے لیے ضوابط اور طریقۂ کار کی تشکیل کی گئی۔ بیسویں صدی کے اختتام پر ڈینگ زیاؤ پنگ کی ایک عظیم الشان ڈاکٹرائن ’’ایک ملک، دو نظام‘‘ نے نہ صرف عالمی تعلقات میں ایک نئے تصور کا اضافہ کیا بل کہ اس سے ہانگ کانگ اور مکاؤ دوبارہ چین کو واپس مل گئے۔

صدر جیانگ زمن کا دور ایڈم اسمتھ، ذوالفقار علی بھٹو اور ڈینگ زیاؤ پنگ کے چین کے بارے میںخیالات کی توثیق کا آغاز تھا۔ 2005 سے چین دنیا کی سب سے تیز رفتار ترقی کرتی ہوئی معیشت کا درجہ اختیار کر گیا۔ 2009 کے اولمپکس اور ایکسپو 2010 کے بیجنگ میں انعقاد سے چین تجارتی اور ثقافتی اعتبار سے ترقی یافتہ ممالک کی صف اول میں پہنچ گیا۔ 1998 میں صدر زمن کی رہنمائی میں کمیونسٹ پارٹی میں اصلاحات، سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی کی تشکیل کا سہ نکاتی عہد نامہ ترتیب دیا گیا۔ چین کو ’’Three stars‘‘ کہا جاتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں کے لیے نظریاتی تعلیم، سیاسی جدوجہد اور دیانت داری کو سماجی اور ریاستی اصلاحات کے عمل میں ناگزیر قرار دیا گیا تاکہ سوشلزم کے فلسفہ کو منڈی کی تشکیل نو میں استعمال کرکے پیدا ہونے والی بدعنوانیوں کا سدباب کیا جا سکے۔ یہ دور پاکستان کے لیے اس لیے بھی انتہائی اہم ہے کہ چین نے ایک معاہدے کے بعد، گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر کا آغاز کیا ہے۔

چین کے موجودہ رہنما صدر ژی چی پنگ نے چین کے لیے عالمگیریت کے رہنما اصول متعین کرتے ہوئے 21 ویں صدی کی ترجیحات کا آغاز کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں ’’مخاصمت کو مفاہمت، دشمنی کو دوستی میں تبدیل کرتے ہوئے، ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں گے، جو ساری انسانیت کو ایک مشترکہ ورثہ میں تبدیل کرسکے۔‘‘

صدر جی پنگ نے عالمگیریت کے موجودہ زمانے میں انتہائی دانش مندی کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی، چینی ریاست اور بین الاقوامی تعلقات کے مابین ایک نئے توازن کی تشکیل کے لیے بنیادی اصول متعین کیے۔ کثیر القطبی اور باہمی انحصاریت پر مبنی تعاون ہی ایک نئی عالمگیریت کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ چین کا تجارتی راہداریوں اور نئے عالمی اور علاقائی اداروں کا قیام، جن میں شنگھائی کوآپریشن آرگنازیشن، برکس، نیو ڈویلپمنٹ بنک، ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بنک ایک خطہ، ایک شاہراہ اور بحری شاہراہِ ریشم چینی ترجیحات میں شامل ہیں، جو بڑھتی ہوئی عالمگیریت میں چین کا ایک رہنما کردار متعین کرتے ہیں۔

ایک خطہ۔ ایک شاہراہر One Belt- One Road اور نئے عالمی اور علاقائی اداروں کی تشکیل کے پس منظر میں حالیہ برسوں میں چین کی اقتصادی ترقی اور اُس کی ترجیحات کا ایک اجمالی جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

20.85 ٹریلین ڈالر جی ڈی پی کے ساتھ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ اس کی شرح ترقی 6.9 فی صد سالانہ ہے جب کہ اس کی فی کس آ مدنی 8240 ڈالر ہے۔ معیشت 9 فی صد، زراعت 50.5 فی صد، صنعت اور 50.5 خدمات کے شعبوں پرمشتمل ہے۔ چین کی برآمدات 2.28 ٹریلین ڈالر اور درآمدات 1.3 ٹریلین ڈالر ہیں۔ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 3.3 ٹریلین ڈالر کے مساوی ہیں۔ چین میں حالیہ برسوں کی صنعتی ترقی اور تعمیراتی شعبوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق چین میں 2011-13 کے دو سال میں استعمال ہونے والے سیمنٹ کی مقدار امریکا میں 20 ویں صدی کے پورے 100 سال میں استعمال ہونے والے سیمنٹ کی مقدار سے زیادہ تھی۔

ایک بین الاقوامی تحقیقی ادارے آئی ایچ ایس گلوبل کے مطابق جن کا حصہ 2010 میں دنیا کی کل صنعتی پیداوار کا 19.8 فی صد تھا جب کہ اس معیشت کے حصول کے لیے امریکا کو 110 سال کا عرصہ لگا تھا۔ چین کی تجارت جو 1988 میں صرف 106 بلین ڈالر کے برابر تھی۔ 2013 تک 4.16 ٹریلین ڈالر کے ریکارڈ اضافہ تک پہنچ گئی۔ چین اب بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ ایشیئن انفراسٹرکچر امور سمٹ بنک میں امریکا کے سوا دنیا کے تقریباً تمام نمایاں ممالک شامل ہیں، جن میں برطانیہ، یورپی یونین کے ممالک، جاپان، آسٹریلیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برازیل، جنوبی افریقا، پاکستان، بھارت، ایران، عراق سمیت دنیا کے 80 سے زیادہ ممالک شریک ہیں اور اس طرح یہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک جیسے اداروں کے مساوی طاقت کا حامل ہے۔ اوبر (Obor) کا تصور صدر ژی جی پنگ نے 2013 میں پیش کیا تھا، جس کے ذریعے چین کی تجارت کے لیے بین الاقوامی راہداریوں کے چھے راستوں کی نشان دہی کی گئی، جن کے ذریعے اُسے یورپ، افریقا، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے 60 سے زیادہ ممالک تک رسائی حاصل ہوگی۔

اِس تصور کے دو بنیادی اجزاء ہیں۔ ایک خطے (One Belt) سے مراد شاہراہ ریشم کی توسیع، یورپ اور پورے ایشیائی علاقوں، جن میں وسطی ایشیا، روس، بائیلوروس، لتھوینیا، پولینڈ، جرمنی، نیدر لینڈز، وسطی اور مشرق یورپ اور جنوب مشرقی یورپ (بلقانی ریاستیں، بلغاریہ اور رومانیہ) شامل ہیں، جنہیں یوریشیا بری پل (Eurasia land bridge) کے ذریعے جوڑا جائے گا۔ یوں پورا پراجیکٹ گوادر سے جڑ جائے گا۔

ایک شاہراہ (One Road) پراجیکٹ، چین کے مشرقی ساحلی علاقوں اور چین کے مغربی (Land locked) علاقوں کو بحرالکاہل اور بحرہند کے موجودہ سمندری رابطوں کے متبادل کی تشکیل کرتے ہوئے پاکستان اور میانمار (برما) کے ذریعے بحرہند تک براہ راست رسائی حاصل کرنا ہے، جہاں چین کو سری لنکا اور پاکستان میں گوادر کی بندرگاہوں کے انتظامی حقوق حاصل ہیں۔

اوپر پراجیکٹ درج ذیل چھ تجارتی راہداریوں پر مشتمل ہے۔

-1 نیو یورایشیالینڈ برج، -2 چین، منگولیا اور روسی راہداری، -3 چین، سینٹرل ایشیا و مغربی ایشیا راہداری، -4 چین انڈو چائنا پنحثیلا راہداری، -5 چین پاکستان تجارتی راہداری، -6 چین، میانمار، بنگلہ دیش، بھارت راہداری۔

اوبر پراجیکٹ پر چینی نائب وزیراعظم ژانگ گیولی کی سربراہی میں قائم کمیشن برائے قومی ترقی و اصلاحات (NDRC) کے ذریعے عمل کیا جارہاہے جبکہ چین کی وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ اس کی تکمیل کے لیے NDRC کی معاونت کریں۔ NDRC نے اپنے خاکہ میں تحریر کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا ایشیا کو یورپ سے جوڑتے ہوئے ان کے مابین واقع ممالک میں اقتصادی ترقی کے لیے بے پناہ ذخائر ہیں، جنہیں بروئے کار لانا ہے اور یہ صرف چین کے لیے نہیں بلکہ OBOR کے خطہ میں واقع تمام ممالک کے لیے ہیں۔

اوبر پراجیکٹ کی واضح ترجیحات حسب ذیل ہیں:
-1 چین کے پس ماندہ رہ جانے والے علاقوں بالخصوص مغربی علاقوں کی ترقی اور خوشحالی، -2 اشیاء و خدمات کے تجارتی بہاؤ، افراد کے لیے آزادانہ سفری سہولتیں اور اطلاعات و ثقافت کے تبادلہ کے ذریعے دونوں خطوں میں اقتصادی ترقی اور رابطوں کا فروغ، -3 چین اور اُس کے ہمسایہ ممالک کے مابین جڑت میں اضافہ، -4 توانائی کی ترسیل، متبادل تجارتی راستوں کی تکمیل اور اس کی سکیورٹی کی فراہمی، -5 بیرون ملک چین کی سرمایہ کاری میں اضافہ۔

اوبر پراجیکٹ نہ صرف 60 سے زیادہ ملکوں کو مربوط کرے گا بلکہ یہ خطہ دنیا کی 66 فیصد آبادی اور 33 فی صد جی ڈی پی کا حامل ہو گا۔ چین ڈیویلپمنٹ بنک نے اس پراجیکٹ کے لیے 890 بلین ڈالر، ایشین انفراسٹرکچر اور سمنٹ بنک نے 50 بلین، سلک روڈ فنڈ نے 40 بلین، نیو ڈیویلپمنٹ بنک نے 30 بلین اور الییان انفراسٹرکچر فنڈز نے 20 بلین ڈالر مختص کر رکھے ہیں۔

اس پراجیکٹ میں چین کے پسماندہ علاقوں کے لیے انتہائی اہم ترجیحات بھی متعین کی گئی ہیں۔ کمیشن برائے قومی ترقی و اصلاحات NDRC کے ساتھ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹم (GAC)، اتھارٹی برائے کوالٹی کنٹرول، انسپکشن و کوارینٹائین اور وزارت ٹرانسپورٹ کو بھی پراجیکٹ کی کامیابی کے لیے ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ جے اے سی نے اعلان کیا ہے کہ وہ تجارتی راہداریوں کے ساتھ کسٹم ڈیوٹیز میں خصوصی رعایتیں دے گی، جس کی وجہ سے ان راہداریوں کے ممالک کو چین کے لیے اپنی برآمدات میں اضافہ کے لیے مواقع ملیںگے۔ وزارت تجارت اور وزارت ٹرانسپورٹ نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ، توانائی، انفراسٹرکچر، لاجسٹک، کارگو اور ہوا بازی کے شعبوں میں تعاون کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔ چین نے اپنے صوبوں اور شہروں کی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ اوبر پراجیکٹ میں امکانیت اور اس کے فوائد میں شریک ہونے کے لیے اپنے پراجیکٹس NDRC کے پاس رواں سال کے آخر تک جمع کرائیں۔

اوبر ایک طویل المدتی پراجیکٹ ہے۔ اس میں شریک ممالک کے حوالے سے چین کئی طرح چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ مشرق بعید، جنوبی ایشیا اور یورایشیائی ممالک کے حوالے سے اس کے اہداف کے حصول چین کی قیادت کے لیے ایک انتہائی کٹھن امتحان ہے۔ مثال کے طور یورایشیا بری پل پراجیکٹ میں روس، اور یورپی یونین کے باہمی تعلقات کی نوعیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انڈو چائنا پنجشیلا میں چین اور فلپائن کے تعلقات اور میانمار، بنگلہ دیش اور بھارت کے باہمی اور چین کے ساتھ ان کے مجموعی تعلقات کے صدر ژی جی پنگ کا خواب ’’دشمنی کے بجائے دوستی‘‘ کی تعبیر تلاش کرنا، چینی قیادت کے لیے کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ چین پاکستان تجارتی راہداری، اس سارے پراجیکٹ میں چین کی واحد طاقت ہے، جسے وہ پورے اعتماد اور یقین سے عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے، چین یوریشیا لینڈ برج یا سینٹرل ایشیا، ویسٹرن کاریڈور کے حصول میں کامیاب نہ بھی ہو سکا، تو گوادر کی بندرگاہ چین کو وہ سارے مواقع فراہم کرتی ہے، جو اس کے ان دونوں پراجیکٹس کے اہداف کا حصہ ہیں۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری، حکومت چین، حکومت پاکستان، سلک روڈ فنڈ، چائنا اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف فارن ایکسچینج، چائنا ایکسپورٹ بنک، چائنا انوسمنٹ کارپوریشن اور چائنا انوسٹمنٹ بنک کے اشتراک سے شروع کیا جانے والا ایک کثیر الجہتی منصوبہ ہے۔ چین نے اس کے لیے مختصرمدتی، درمیانی مدتی اور طویل المدتی اہداف متعین کیے ہیں۔ مختصرمدتی اہداف میں پاکستان اور چین کے درمیان موجودہ انفراسٹرکچر کے ذریعے کراچی پورٹ کے ذریعے نقل و حمل کی سہولتوں سے استفادہ کرناہے۔ طویل مدتی اہداف میں چین اور پاکستان کے درمیان مغربی روٹس، جو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ذریعے گوادر کو منسلک کرنا ہے اور اس روٹ کے ہمراہ ریلوے لائن، پائپ لائن اور مقامی صنعتی انفراسٹرکچر کا قیام ہے۔ چین کی طرف سے چین کے ٹرانسپورٹ سے متعلق متعدد ادارے اس پراجیکٹ پر عمل درآمد کے لیے شریک کار ہیں۔ یہ انگریزی زبان Y کے حرف سے مشابہ پراجیکٹ ہے، جس کی چھ مزید ذیلی راہداریاں ہیں۔

اوبر پراجیکٹ میں چین، پاکستان تجارتی راہداری کو اس وقت انتہائی ترجیحی درجہ حاصل ہے۔ 47 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری سے گوادر کاشغر تک 2000 کلومیٹر طویل شاہراہ اور توانائی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس سے چین کو عالمی تجارت میں صرف نقل و حمل کے شعبے میں سالانہ 20 ارب ڈالر کی بچت ہو گی۔ آبنائے ملاکا سے اس کے ذریعے مسافت 45 دن سے کم ہو کر دس دن رہ جائے گی۔ سی پیک پراجیکٹ پاکستان میں بجلی کی پیداوار، نئے صنعتی زونز کا قیام، زراعت، بائیو ٹیکنالوجی، ٹیکسٹائل، ایل این جی پائپ لائن اور دیگر پراجیکٹ کے ذریعے نہ صرف ملک کی ترقی کا ذریعہ بنے گا بلکہ اس سے پاکستان میں روزگار کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔ ایک تخمینہ کے مطابق سی پیک پراجیکٹ 70 لاکھ افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیداکرے گا۔

اس پس منظر میں اوبر پراجیکٹ میں چین 6 تجارتی راہداریوں میں سے کم از کم تین، یوریشیا، برج، سینٹرل ایشیا، ویسٹ ایشیا اور میانمار، بھارت راہداریوں کے لیے سی پیک متبادل امکانات پیدا کرتے ہوئے قابل عمل رسائی فراہم کرنا ہے۔ اوبر پراجیکٹ پاکستان کو روس، پولینڈ، بائلوروس، لتھونیا، لٹویا، منگولیا، قازقستان، ترکمانستان، ازبکستان، تاجکستان، کرغیزیہ جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی، صنعتی اور تکنیکی تعاون کے نئے امکانات سے بھی روشناس کرائے گا، بشرطیکہ وہ وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی، افغانستان اور بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کی تشکیل نو کے لیے اقدامات کرسکے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا یہ کہنا انتہائی اہم ہے کہ ’’سی پیک پراجیکٹ، دو طرفہ تعلقات کو جیوپولیٹیکل سے جیواکنامک بننے کا عمل ہے۔‘‘

پاکستان کے لیے یہ بھی انتہائی اہم ہے کہ وہ صوبائی رابطہ کی وزارت اور مشترکہ مفادات کونسل کو ذمہ داریاں سونپے کہ وہ پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے سی پیک میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے اقدامات اور ترجیحات کا تعین کریں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلیوں میں سی پیک کے حوالے سے خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جو اس سلسلہ میں حکومت کے لیے تجاویز، پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے مرتب کریں۔ اس حوالے سے سب سے اہم پبلک/ پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مبنی سی پیک مینیجمنٹ کارپوریشن کا قیام ہے، جو پاکستان کے کاروباری اور تجارتی اداروں کے لیے مواقع پیدا کر سکے۔

اوبرا پراجیکٹ بین الاقوامی تعلقات میں عظیم الشان تبدیلیوں کا موجب ہو گا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد گلوبلائزیشن کے تصورات میں، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا اور اس کی قیادت کی جانب سے یہ ایک اہم پہل کاری ہے، جو عالمگیریت کے لیے نئے اصول متعین کرے گی۔

ہفتہ، 11 اگست، 2018

شہید سندھ : راجہ داہر

شہید وطن
سندھ کی داستان راجہ داہر کی دو بیٹیوں سوریا دیوی اور پرمل دیوی کے بغیر نا مکمل ہے، جب انہیں خلیفہ کے حرم میں پیش کیا گیا، تو بڑی بہن نے خلیفہ کو کہا کہ وہ کنواری نہیں رہی، محمد بن قاسم ان دونوں بہنوں کو خلیفہ کے پاس بھیجنے سے پیشتر ان کی عزت لوٹ چکا ہے، خلیفہ کے حکم پر محمد بن قاسم کو ایک تازہ ذبح شدہ بیل کی کھال میں سی کر بھیجا جاتا ہے۔ خلیفہ کو جب اطلاع ملتی ہے کہ محمد بن قاسم کا صندوق آ پہنچا ہے تو خلیفہ دریافت کرتا ہے ” زندہ ہے یا مردہ “۔ اسے بتایا جاتا ہے ” خدا خلیفہ کی عمر اور عزت کو دائمی بقا عطا کرے، جب اودھا پور میں فرمان ملا تب حکم کے مطابق محمد بن قاسم نے خود کو کچے چمڑے میں بند کرایا، اور دو دن بعد راہ میں جان اللہ تعالیٰ کے حوالے کر کے دارالبقا کو کوچ کر گیا “۔ اس وقت خلیفہ داہر کی بیٹیوں کو بلاتا ہے، اور اپنے ہاتھ میں پکڑی سبز زمرد کی چھڑی کو محمد بن قاسم کے دانتوں پر پھیرتے ہوئے کہتا ہے ” اے راجہ داہر کی بیٹیو، ہمارا حکم اپنے ماتحتوں پر اس طرح جاری ہے۔ اس لیئے کہ سب منتظر اور مطیع رہتے ہیں۔ جیسے ہی ہمارا فرمان اسے قنوج میں ملا، ویسے ہی ہمارے حکم پر اس نے اپنی پیاری جان قربان کر دی “۔ لیکن جب خلیفہ کو داہر کی بیٹی یہ بتاتی ہے کہ اس نے اپنے باپ راجہ داہر کی موت کا انتقام لینے کیلئے جھوٹا الزام لگایا ہے تو وہ خلیفہ دونوں بہنوں کو دیوار میں زندہ چنوا دیتا ہے۔
کیا یہ واقعی ایک ایسی جنگ تھی جسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ یا یہ عربوں کی اپنے وقت کی مہذب دنیا کو لوٹنے کی ایک کاروائی    تھی۔ 
Image result for Raja Dahir
جیسے اس سے پہلے وہ شام، مصر، عراق و ایران کو لوٹ چکے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ خلیفہ وقت دونوں بار سندھ پر چڑھائی کی اجازت دینے سے ہچکچاتا ہے، کیا اس کا جذبہ ایمانی حجاج بن یوسف سے کمزور تھا، خلیفہ اور حجاج کے درمیان جو خط و کتابت ہوتی ہے اس میں بھی کسی جہاز کے لٹنے کا کوئی ذکر نہیں ہے، دوسری بار بھی جو خط لکھا جاتا ہے اس میں بھی شکست کا انتقام لینے اور بذیل بن تحفہ کے سندھ کے حملے کے دوران قید ہونے والے قیدیوں کا ذکر ہے۔ فتح کے بعد بھی حجاج صرف شکست کے انتقام اور منافع کا ذکر کرتا ہے۔ حجاج کی یہ بھی خواہش تھی کہ سندھ کے بعد باقی ماندہ ہندوستان اور اسکے بعد چین پر بھی حملہ کیا جائے، کیا باقی ماندہ ہندوستان اور چین نے بھی حاجیوں کے جہاز لوٹے تھے یا یہ خواہش دیگر قوموں کی مال و دولت لوٹنے کی عربی جبلت کا اظہار تھا ۔
خلیفہ عثمان بن عفان کے زمانے میں سندھ کا پانی کڑوا اور کسیلا تھا، فتح کے بعد اس قدر میٹھا ہو جاتا ہے کہ حجاج باقاعدہ اس کا ذکر کرتا ہے۔ ۔
ڈاکٹر ممتاز حسین پٹھان کے مطابق عربوں کے سندھ پر حملے کی وجوہات صرف جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ دیبل کی فتح کے بعد عرب قیدیوں کی بازیابی بھی ایک جھوٹ ہے اور تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ ڈاکٹر خان کے مطابق اس جنگ کا مقصد لوٹ مار اور عربوں کو آپس میں لڑنے اور داخلی انتشار پیدا کرنے کی بجائے ملک سے باہر مصروف رکھنا تھا۔
” سندھ کی فتح حجاج کے پیشگی منصوبے کا حصہ تھی، جسے جائز ٹھہرانے کیلئے بودے دلائل گھڑے گئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علافی جو حجاج کے مظالم سے بھاگ کر راجہ داہر کی پناہ میں آئے تھے، انہوں نے بھی عربوں کے لیئےجاسوسی کا کام کیا۔ انہوں نے اہم معلومات عربوں تک پہنچائیں اور عربوں کو سندھ پر حملہ کرنے کی ترغیب دی”۔ ڈاکٹر خان بدھوں کو بھی راجہ داہر کی شکست کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے جنہوں نے اہم مواقع پر داہر کو دھوکا دیا۔
گو سندھی قوم پرست آج بھی دو جولائی کو راجہ داہر کا دن مناتے ہیں لیکن راجہ داہر کا یہ کہنا انتہائی غلط ثابت ہوا کہ ہند اور عرب کے تاریخ دان اسے ایک سورما کے طور پر یاد رکھیں گے، عرب تو در کنار داہر کو اپنے ہی دھرتی پر نہ صرف بھلا دیا گیا بلکہ ایک اس کے مقابلے میں ایک غیر ملکی لٹیرا قابل ستائش ٹھہرا۔ آقاوؑں کے تلوے چاٹنے والوں کی کبھی بھی کمی نہیں رہی، عرب ہونا انتہائی افضل ٹھہرا اور عربوں کی ہر چیز اتنی برتر اور مقامی لوگوں کا احساس کمتری اس سطح پر آ گیا کہ مقامی لوگوں نے اپنی جڑیں عرب میں تلاش کرنے شروع کر دیں۔ راجپوت ہونا جو کبھی باعث فخر ہوتا تھا، انہوں نے بھی اپنے سلسلہ نسب عرب سے جوڑنا شروع کر دیا سموں نے اپنے آپ کو عبدالعزیٰ (ابولہب)، سومروں نے علوی سادات، کلہوڑوں نے خود کو عباسی، اور بلوچوں نے خود کو حمزہ بن عبدالمطلب کی اولاد کہنا شروع کر دیا۔ سندھ ایکدم سے قریشیوں، عباسیوں، سیدوں اور صدیقیوں وغیرہ سے بھر گیا۔
شاید تاریخ کبھی اس سندھی سورما کو اس کا جائز مقام دے ۔۔۔۔۔
تحریر و تحقیق
غلام رسول ۔
بشکریہ جرات تحقیق ۔

قدرتی وسائل کا بے تحاشا استعمال، فوری اقدامات کی ضرورت

قدرتی وسائل کا بے تحاشا استعمال، فوری اقدامات کی ضرورت
اس برس یکم اگست تک بنی نوع انسان نے زمین کی پیداوری سکت سے زیادہ قدرتی وسائل استعمال کر لیے۔ سن 1970 تک انسان سالانہ بنیادوں پر اتنے ہی قدرتی وسائل استعمال کر رہے تھے جتنے کہ کرہ ارض ایک سال میں پیدا کر رہی تھی۔ 

سائنسدانوں کے مطابق انسانوں نے اگر اسی رفتار سے قدرتی وسائل کا استعمال جاری رکھا تو ’ارتھ اوور شوٹ ڈے‘ ہر برس کم ہوتا جائے گا۔ اگر قدرتی وسائل کو سالانہ بجٹ کی طرح دیکھا جائے تو یوں سمجھیے کہ دنیا میں بسنے والے انسانوں نے یہ بجٹ یکم اگست تک استعمال کر لیا جب کہ ابھی سال کے پانچ ماہ باقی ہیں۔ یوں زمین کے قدرتی وسائل خسارے میں ہیں۔

گلوبل فٹ پرنٹ نیٹ ورک کے مطابق اس وقت انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمارا سیارہ یعنی زمین ناکافی ہے اور اس وقت انسانوں کو 1.7 سیاروں کی ضرورت ہے۔ یہ نجی تنظیم ہر برس ’ارتھ اوور شوٹ ڈے‘ کا تعین یوں کرتی ہے کہ زمین پر سالانہ بنیادوں پر دستیاب قدرتی وسائل کو استعمال شدہ وسائل سے تقسیم کیا جاتا ہے۔

تاہم قدرتی وسائل کے زیادہ استعمال کا الزام ہر ملک پر عائد نہیں جاتا۔ گلوبل فٹ پرنٹ نیٹ ورک کے مطابق امیر ممالک قدرتی وسائل کا استعمال کم آمدنی والے ممالک کی نسبت کہیں زیادہ کر رہے ہیں۔

قطر، جو دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، قدرتی وسائل کے استعمال میں سب سے آگے ہے۔ اگر دنیا کے تمام انسان قطری باشندوں جیسا طرز زندگی اختیار کر لیں تو ہمیں ایک نہیں بلکہ زمین جتنے نو سیاروں کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے مقابلے میں اگر دنیا کے تمام انسان پاکستانی شہریوں جیسا طرز زندگی اور ان کی طرح قدرتی وسائل کا استعمال کریں تو بنی نوع انسان کے لیے کرہ زمین کا چالیس فیصد ہی سالانہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو گا۔ جب کہ بھارتی اور نائجیرین باشندوں کی طرح قدرتی وسائل کا استعمال کرنے کی صورت میں ہمارے لیے کرہ ارض کا ساٹھ فیصد کافی ہو گا۔

جرمن شہری بھی پائیدار قدرتی وسائل کا ضرورت سے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ اگر تمام انسان جرمنوں کی طرح قدرتی وسائل استعمال کریں تو ہمیں ایک نہیں بلکہ زمین جیسے تین سیاروں کی ضرورت پڑے گی۔

دنیا بھر میں قدرتی وسائل کے ضرورت سے زیادہ استعمال میں معدنی تیل یا ایندھن کا استعمال سب سے نمایاں (ساٹھ فیصد) ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر کاربن کا استعمال نصف کر دیا جائے تو ’ارتھ اوور شوٹ ڈے‘ میں تین ماہ کا اضافہ ہو جائے گا۔ کاربن کے اخراج میں کمی کرنا زمینی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔


جرمنی میں اسلام کیسا ہے اور کیسا ہونا چاہیے: نئی بحث


جرمنی میں ایک نئی بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ اس ملک میں بطور مذہب اسلام کیسا ہے اور کیسا ہونا چاہیے؟
 جرمن وزارت داخلہ بڑی قدامت پسند مسلم تنظیموں کے اثر و رسوخ میں کمی چاہتی ہے جو کئی حلقوں کے مطابق اچھی بات نہیں ہو گی۔
جرمنی، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، یورپ کی ان ریاستوں میں بھی شمار ہوتا ہے، جہاں مقامی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد کئی ملین بنتی ہے اور اسلام مسیحیت کے بعد دوسرا بڑا مذہب بھی ہے۔ یہ بڑی تعداد بھی ایک وجہ ہے کہ جرمنی میں حکومت نے مسلم اقلیت کے بہتر سماجی انضمام اور مختلف معاشرتی امور پر مشاورت کے لیے اپنی میزبانی میں ایک ایسا پلیٹ فارم بھی قائم کر رکھا ہے، جو ’اسلام کانفرنس‘ کہلاتا ہے اور جس میں مقامی مسلمانوں کی نمائندہ کئی بڑی اور قدامت پسند تنظیمیں بھی شامل ہیں۔
اب برلن میں وفاقی وزارت داخلہ کی سوچ یہ ہے کہ اس ’اسلام کانفرنس‘ میں بہت منظم اور زیادہ تر قدامت پسند مسلم تنظیموں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے، جسے کم کیا جانا چاہیے۔ مقصد بظاہر یہ ہے کہ ترقی پسند اور لبرل سوچ کے حامل مسلمانوں اور ان کی نمائندہ تنظیموں کو بھی اس پلیٹ فارم پر مناسب نمائندگی ملنا چاہیے۔
Erika Theissen
ایریکا تھائیسن
لیکن اس سوچ کی مخالفت کرنے والے کئی حلقوں کے مطابق یہ نہ تو کوئی اچھا خیال ہے اور نہ ہی ایسا کرتے ہوئے جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے صورت حال کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
جرمنی کے موجودہ وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر ہیں، جو چانسلر میرکل کی پارٹی سی ڈی یو کی ہم خیال جماعت اور صوبے باویریا کی قدامت پسند پارٹی کرسچین سوشل یونین یا سی ایس یو کے سربراہ بھی ہیں۔ ہورسٹ زیہوفر کا خیال ہے کہ موسم گرما کے موجودہ وقفے کے بعد ’جرمن اسلام کانفرنس‘ کی ہیئت مختلف ہونا چاہیے۔ ’اسلام کانفرنس‘ کی میزبانی جرمن وزارت داخلہ اور ذاتی طور پر وفاقی وزیر داخلہ ہی کرتے ہیں۔
اس پس منظر میں وفاقی وزارت داخلہ میں ریاستی امور کے سیکرٹری مارکوس کَیربر نے جرمن اخبار ’بِلڈ‘ کو دیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو کے ساتھ اس وقت کافی ہلچل پیدا کر دی، جب انہوں نے کہا، ’’ہمیں ان مسلمانوں کو، جو مسلمانوں کی منظم ملکی تنظیموں کا حصہ نہیں ہیں، اور جرمنی میں مقامی شہریوں یا طویل عرصے سے مقیم تارکین وطن کے طور پر رہتے ہیں، اب تک کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں ’اسلام کانفرنس‘ کے پلیٹ فارم پر لانا ہو گا۔‘‘
’اسلام کانفرنس‘ میں مرکزی کردار کس کا؟
اپنے اس موقف کے ساتھ جو کچھ مارکوس کَیربر نے نہیں کہا لیکن جو واضح طور پر ان کی مراد تھی، وہ یہ بات تھی کہ حکومت ’اسلام کانفرنس‘ میں قدامت پسند مسلم تنظیموں کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتی ہے۔ اسی سوچ کا دوسرا مطلب یہ ہو گا کہ مسلمانوں کی نمائندہ صرف ایسی قدامت پسند تنظیمیں ہی ’اسلام کانفرنس‘ جیسے پلیٹ فارم پر مرکزی اہمیت کی حامل نہ رہیں۔ پچھلے سال تک ’اسلام کانفرنس‘ میں زیادہ تر ایسی ہی قدامت پسند مسلم تنظیموں کو نمائندگی حاصل تھی۔
پھر اس سال مارچ میں کئی حلقوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جرمنی میں اسلام تو بڑا متنوع اور کثیرالنسلی ہے، جس کی کئی جہتیں ہیں اور اس کی واحد اور غالب پہچان صرف قدامت پسندانہ ہی نہیں ہے۔ اسی طرح جرمنی میں آباد تارکین وطن کی کئی سیکولر تنظیموں نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر ’اسلام کانفرنس‘ میں جلد اصلاحات نہ کی گئیں، تو یہ ریاست اور مسلمانوں کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر ناکام ہو جائے گی۔
دوسری طرف بہت سے جرمن مسلم اور غیر مسلم حلقے اس بارے میں خبردار بھی کر رہے ہیں کہ مقامی مسلمانوں کی نمائندہ بڑی تنظیموں کو ان کی جائز حیثیت تسلیم کرنے کے بجائے مکالمت کی سطح پر مرکزی دھارے سے الگ کر دینا بالکل غلط ہو گا۔

’اس وقت اس تجویز کی ضرورت کیا؟‘

جرمن شہر کولون میں مسلم خواتین کے ایک تربیتی مرکز کی سربراہ اور ڈائیلاگ فورم کی ایک سابقہ مشیر ایریکا تھائیسن وزارت داخلہ کی تجویز پر بے یقینی سے سر ہلائے بغیر نہ رہ سکیں۔ تین عشرے قبل اسلام قبول کر لینے والی اس جرمن شہری نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’اب اس تجویز کی کیا ضرورت تھی؟ کیا ملک میں اسلام کے بارے میں بحث اور سوچ پہلے ہی کافی حساس، زیادہ شدید اور پرجوش نہیں ہو چکی؟‘‘
ایریکا تھائیسن نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں کو الگ تھلگ کر دینا، ایسا کرنا درست کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ جو بھی مسلمان ہے اور اپنے عقیدے پر عمل کرتا ہے، اسے مساجد اور مقامی مساجد سے منسلک مسلم برادریوں کی ضرورت تو ہو گی۔ ’اسلام کانفرنس‘ ایک بین الامذاہبی مکالمتی پیلٹ فارم ہے۔ اس میں مسلمانوں کے اہم نمائندوں اور ان کے کردار کو نظر انداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟‘‘
جرمنی میں مسلمانوں کے حقیقی نمائندے؟ ایک مستقل سوال
جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے دو باتیں بہت اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ جرمنی میں اسلام سے متعلق ہر قسم کی ممکنہ اور تنقیدی بحث کے لیے سب سے اہم پلیٹ فارم ’اسلام کانفرس‘ ہی ہے۔ دوسرے یہ کہ جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کون کرتا ہے، اور کس کو کرنا چاہیے، یہ بھی عشروں سے ایک سوال رہا ہے، جس پر بحث مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔
وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کی رائے میں جرمنی میں مسلمان بھی جرمن معاشرے کا حصہ ہیں اور ان سے متعلقہ معاملات انہی کے نمائندوں سے مکالمت کے ذریعے طے کیے جانا چاہییں، نہ کہ اسلام کے نام پر جرمنی کے باہر سے کوئی ملک یا مذہبی مکتبہ فکر اس عمل میں کوئی مداخلت کرے۔

ہفتہ، 25 نومبر، 2017

آج کا پاکستان - عاشق ہمدانی

   آج کا پاکستان.پاکستان میں علاقائی رجحانات پر نہ تو ریسرچ کی جاتی ہے اور نہ ہی اِنکےسیاسی اثرات  کو اہمیت دی جاتی ہے. .تاریخی لحاظ سے پنجاب  میں ریاست اور مذہب پر تنازعات، جس میں سول -  فوجی تعلقات ,  فرقہ وارانہ جنگ میں تبدیل ہو رہے ہیں  سندھ، خیبر پختونخواہ،بلوچستان کے مسائل، قومی سوال اور قوم پرستی سے تعلق رکھتے ہیں. اگر ریاست کی بااختیار اشرافیہ بنیادی مسائل کا جواب نہیں دے رہی تو،  پاکستان کو بلکنائزیشن اور لبنانزیشن کے چیلنج سامنا کرنا پڑےگا.  پاکستان کے علاقائی رجحانات  ثقافتی، لسانی تقسیم پنجاب سندھ، خیبر پختونخواہ،بلوچستان  قبائلی علاقہ جات، آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان میں شامل   ہے.آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان  کےعلاقے ہیں  باقاعدہ پاکستان میں شامل نہیں  اور ان کی آزاد حیثیت برقرار ہے  لیکن اس کے باوجود یہ علاقے عملی طور پر پاکستان کے زیرِ اختیار ہیں, پاکستان ایک کثیر القومی ریاست ہے جس میں بڑی قومیں پنجابی، سندھی، بلوچ اور پختون آباد ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کی  کثیر القومی اور ثقافتی شناخت کومسخ  کر دیا گیا۔
 1947ء سے 1956ء تک پاکستان میں بادشاہت کا ایک موروثی  نطام تھا ۔  پاکستان بادشاہ   جارج ششم اور ملکہ ایلزبتھ دوم  کے زیادہ تر آئینی اختیارات پاکستان کے گورنر جنرل کو سونپے گئے تھے۔ شاہی جانشینی کو 1701ء کے انگریزی ایکٹ کے ذریعے کنٹرول کیا گیا تھا۔ گورنر جنرل قیام پاکستان کے بعد تاج برطانیہ کے نمائندے کی حیثیت سے ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ تھا۔ گورنر جنرل 1947ء سے 1952ء تک شاہ جارج ششم اور 1952ء سے 1956ء تک ملکہ ایلزبتھ دوم کا نمائندہ قرار دیا جاتا تھا۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد بھی تعزیرات ہند 1935ء کے قوانین کا تسلسل جاری رہا جس کے تحت آئین کی تیاری تک آئینی بادشاہت جاری رہے گی۔ اس میں شاہ وزير اعظم کی مشاورت سے گورنر جنرل کا تقرر کیا کرتا تھا اور گورنر جنرل ملک میں شاہ/ملکہ کا نمائندہ ہوتا تھا۔  پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح اپنی وفات 11 ستمبر 1948ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔1956ء میں  گورنر جنرل کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ صدر پاکستان کے عہدہ نے لے لی اور اس وقت کے گورنر جنرل اسکندر مرزا ملک کے پہلے صدر قرار پائے۔ بادشاہت 23 مارچ 1956ء کو ختم کر دی گئی
 سرد جنگ میں  امریکی  بین الاقوامی سیاسی شراکت دارجاگیردارانہ سیاسی جماعتیں، فوجی اشرافیہ ، جنرل ایوب خان  چوہدری غلام محمد، سکندر مرزا، چوہدری محمد علی  اور مشتاق احمد گورمانی ، مذہبی، انتہا پسندی اور واہبیت جسے آخر میں کارٹر انتظامیہ  کے سیکورٹی مشیرپولش امریکی یھودی برزسنکی نے سعودی عرب ، خلیجی حکمرانوں  اور جنرل ضیا الحق کے ساتھ مل کر سوویت یونین کو تباہ کرنے کے لئے پاکستان کو استعمال کیا۔ امریکہ  کی  وفادار کلونیل طرز پر  ریاست کی تشکیل  میں  پاکستانی عدلیہ جسٹس محمد منیر  سے جسٹس انوارالحق تک غیر آئینی اور غیر قانونی سازشوں  میں شامل رہی ۔
 آج پاکستان کو اس حکمت عملی کے نتائج کا سامنا ہے  ۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے پاکستان کو اپنی  کثیر القومی اور ثقافتی شناخت  پر واپس آنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان انتظامی طور پربکھرے ہوئے خطے میں عوام کی طاقت کے بغیر برطانوی حکومت کی جانب سے تقسیم ہند  اور سرحدوں کی تشکیل  میں جلد بازی کے ساتھ قایم  کیا گیا، جون 1947 میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے تقسیم کے منصوبے کا اعلان کیا گیا۔ آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں محمد علی جناح اور جواہر لال نہرو نے اس منصوبے پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔  برطانوی جج سر سرل ریڈکلف کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان سرحدوں کی تشکیل کے لیے بلایا گيا۔  انھیں دو سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ آبادی والے صوبوں پنجاب اور بنگال کو تقسیم کرنا تھا۔ریڈکلف اس سے پہلے نہ کبھی انڈیا آئے تھے اور نہ کبھی واپس لوٹے۔ جو سرحدوں انہوں نے طے کیں اس سے لاکھوں ہندو، مسلمان اور سکھ متاثر ہوئے۔ جلدی میں کی گئی اس تقسیم کے آنے والے دنوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے، ہزاروں خواتین کو اغواء کرلیا گیا اور ایک کروڑ سے زیادہ لوگ اچانک مہاجر بن گے  ۔
خطہ پنجاب بھارت اور پاکستان میں موجود بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب میں منقسم ، تاریخی طور پر برصغیر کے اہم خطوں میں شمار کیا جاتا ہے۔پنجاب خطے کے مشرق میں ہماچل پردیش،ہریانہ اور راجستھان  ، مغرب میں پشتون ،شمال میں کشمیر اور جنوب میں سندھ واقع ہے۔ 1849 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اسے برطانوی ہندوستان میں شامل کیا۔ پنجاب برطانوی ہندوستان میں شامل ہونے والے آخری علاقوں میں سے ایک ہے۔یہ پانچ ڈویژنز لاہور، دہلی، جالندھر ،راولپنڈی، ملتان اور بہت سی نوابی ریاستوں پر مشتمل تھا۔ 1947 کی ہونے والی تقسیم ہند کے نتیجے میں پنجاب کو بھی دو حصوں میں بانٹ دیا گیا مشرقی پنجاب بھارت کے حصے میں آیا اور مغربی پنجاب پاکستان کے حصے میں آیا۔ موجودہ دور میں اس میں بھارتی پنجاب، چنڈی گڑھ، دہلی، ہریانہ، ہماچل پردیش اور پاکستانی پنجاب، اسلام آباد پوٹھوہار,لاہور، سرائیکی علاقےشامل ہیں
1843 میں برطانیہ نے دو مقاصد کے لئے سندھ فتح کیا. . برطانیہ نے سندھ کے اپنے اقتدار میں  تھے: برطانوی حکمرانی کو مضبوط بنانا برطانوی  تاجروں کو خام مال حاصل  کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنا۔ ۔بمبئی پریزیڈنسی  اور سندھ 1843 تا 1936 تک برطانوئی ہند کا انتظامی لحاظ سے ایک سب ڈویشن تھا۔اس صوبے میں موجودہ بھارت کے ریاست جرات،مہارشٹرا اور کرناٹکا کے علاقے اور پاکستانی سندھ اور یمن کے زیرانتظام عدن کالونی شامل تھی۔ اس کا دارلخلافہ بمبئی شہر ہوا کرتا تھا۔وادیٔ سندھ کی تہذیب 3300 سے 1700 قبل مسیح تک قائم رہنے والی انسان کی چند ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ وادیٔ سندھ کے میدان میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کناروں پر شروع ہوئی۔ اسے ہڑپہ کی تہذیب بھی کہتے ہیں۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو اس کے اہم مراکز تھے۔ دریائے سواں کے کنارے بھی اس تہذيب کے آثار ملے ہیں۔ اس تہذيب کے باسی پکی اینٹوں سے مکان بناتے تھے۔ ان کے پاس بیل گاڑياں تھیں، وہ چرخے اور کھڈی سے کپڑا بنتے تھے، مٹی کے برتن بنانے کے ماہر تھے، کسان، جولاہے، کمہار اور مستری وادیٔ سندھ کی تہذیب کے معمار تھے۔
سوتی کپڑا کہ جسے انگریزی میں کاٹن کہتے ہیں وہ انہی کی ایجاد تھی کہ لفظ کاٹن انہی کے لفظ کاتنا سے بنا ہے۔ شکر اور شطرنج دنیا کے لیے اس تہذیب کے انمول تحفے ہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کی دولت نے ہزاروں سال سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔ خیال کیا جاتا تھا پاک و ہند میں تمذن کی بنیاد آریاؤں نے 1500 ق م میں ڈالی تھی ۔ اس سے پہلے یہاں کے باشندے جنگلی اور تہذیب و تمذن سے کوسوں دور تھے ۔ مگر بعد کی تحقیقات نے اس نظریے میں یک لخت تبدیلی پیدا کردی اور اس ملک کی تاریخ کو ڈیرھ ہزار پیچھے کردیا ۔ ایک طرف موہنجودڑو اور ہڑپا کے آثار اور سندھ کی قدیم تہذیب کے بارے میں جو معلومات ہوئیں ان سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ کی ہے کہ کہ آریوں کے آنے سے بہت پہلے یہ ملک تہذیب و تمذن کا گہوارہ بن چکا تھا ۔
 خیبر پختونخواہ میں برطانیہ اور روس کے درمیان جنوبی ایشیاء پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے کئی تصادم ہوئے. جس کے نتیجے میں افغانستان کی تقسیم واقع ہوئی. افغانوں سے دو جنگوں کے بعد برطانیہ 1893ء میں ڈیورنڈ لائن نافذ کرنے میں کامیاب ہوگیا. ڈیورنڈ لائن نے افغانستان کا کچھ حصہ برطانوی ہندوستان میں شامل کردیا. ڈیورنڈ لائن، سر مورتیمر ڈیورنڈ کے نام سے ہے جو برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے معتمدِ خارجہ تھے. افغان ڈیورنڈ لائن کو ایک عارضی خط جبکہ برطانیہ اِس کو ایک مستقل سرحد سمجھتے تھے. یہ سرحدی خط قصداً ایسے کھینچی گئی کہ پختون قبیلے دو حصوں میں بٹ گئے. برطانیہ جس نے جنوبی ایشیاء کا باقی حصہ بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کرلیا تھا، یہاں پر اُسے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. پشتونوں کے ساتھ پہلی لڑائی کا نتیجہ بہت بُرا نکلا اور برطانوی فوج کا صرف ایک سپاہی جنگِ میدان سے واپس آنے میں کامیاب ہوا جبکہ برطانوی فوجیوں کی کل تعداد 14,800 تھی. خطے میں اپنی رِٹ قائم رکھنے میں ناکامی کے بعد برطانیہ نے تقسیم کرو اور حکمرانی کرو کا کھیل شروع کیا. برطانیہ نے اِس کھیل میں کٹھ پتلی پشتون حکمران صوبہ خیبر پختونخوا میں بھیجے. تاکہ پشتونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوسکے. باوجود اِس کے، موقعی پشتون حملے ہوتے رہے مثلاً محاصرۂ مالاکنڈ.صوبہ خیبر پختونخوا 9 نومبر 1901 کو بطورِ منتظمِ اعلٰی صوبہ بنا. اور اس کا نام صوبہ سرحد رکھا گیا۔ ناظمِ اعلٰی صوبے کا مختارِ اعلٰی تھا. وہ انتظامیہ کو مشیروں کی مدد سے چلایا کرتا تھا. صوبے کا باضابطہ افتتاح 26 اپریل 1902ء کو شاہی باغ پشاور میں تاریخی ‘‘دربار’’ کے دوران ہوا جس کی صدارت لارڈ کرزن کررہے تھے. اُس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے صرف پانچ اضلاع تھے جن کے نام یہ ہیں: پشاور، ہزارہ، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان. مالاکنڈ کی تین ریاستیں دیر، سوات اور چترال بھی اس میں شامل ہوگئیں. صوبہ خیبرپختونخواہ میں قبائل کے زیرِ انتظام ایجنسیاں خیبر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان بھی شامل تھیں. صوبہ خیبر پختونخوا کے پہلے ناظمِ اعلٰی ہرولڈ ڈین تھے.
صوبہ خیبر پختونخوا ایک مکمل حاکمی صوبہ 1935ء میں بنا. یہ فیصلہ اصل میں 1931ء میں گول میز اجلاس میں کیا گیا تھا. اجلاس میں اِس بات پر اتفاقِ رائے ہوا تھا کہ صوبہ سرحد کا اپنا ایک قانون ساز انجمن ہوگا. اِس لئے، 25 جنوری 1932ء کو وائسرائے نے قانونساز انجمن کا افتتاح کیا. پہلے صوبائی انتخابات 1937ء میں ہوئے. آزاد اُمیدوار  صاحبزادہ عبدالقیوم خان صوبے کے پہلے وزیرِ اعلٰی منتخب ہوئے.
بلوچستان چیف کمشنر صوبہ  برطانوی ہند اور بعد میں پاکستان کا ایک صوبہ ، جو موجودہ صوبہ بلوچستان کے شمالی حصوں پر مشتمل ہ اصل میں رابرٹ سینڈمین اور خان قلات کے درمیان تین معاہدوں کے بعد 1876-1891 کی مدت میں قائم کیا گیا۔ رابرٹ سینڈمین برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان واقع برطانوی زیر انتظام علاقوں کا پولیٹیکل ایجنٹ بن گیا۔ کوئٹہ میں ایک فوجی چھاونی قائم کی گئی جس نے دوسری اور تیسری افغان جنگ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ صوبہ 1947ء میں پاکستان کا حصہ بن گیا ہے جو چیف کمشنر کے زیر انتظام تھا۔ 1955ء میں اسے تحلیل کر کر دیا گیا اورچیف کمشنر صوبہ، بلوچستان ریاستی اتحاد اور گوادر کو ملا کر نیا صوبہ بلوچستان قائم کیا گیا۔ بلوچستان ریاستی اتحاد جنوب مغربی پاکستان کے علاقے میں 3 اکتوبر 1952ء اور 14 اکتوبر 1955ء کے درمیان موجود ریا۔ یہ اتحاد ریاست قلات، ریاست خاران، ریاست لسبیلہ اور ریاست مکران کے درمیان قائم ہوا اور اسکا دارالحکومت قلات شہر تھا۔ اتحاد عمومی طور پر موجودہ صوبے بلوچستان کا تقریبا نصف تھا۔ اتحاد میں گوادر شامل نہیں تھا جو سلطنت عمان کے تحت تھا۔اتحاد کے سربراہ کا لقب خان اعظم تھا جو خان آف قلات تھا۔ مرکزی گورننگ باڈی خان اعظم، جام لسبیلہ، نواب خاران اور نواب مکران پر مشتمل تھی۔
گوادر اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے۔یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا ہے اس کا زیادہ رقبہ بے آباد اور بنجر ہے۔ یہ مکران کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی خاص اہمیت کا حا مل رہا ہے۔ معلوم تاریخ کی ایک روایت کے مطابق حضرت داﺅد علیہ السلام کے زمانے میں جب قحط پڑا تو وادی سینا سے بہت سے افراد کوچ کر کے وادی مکران کے علاقے میں آگئے ۔مکران کا یہ علاقہ ہزاروں سال تک ایران کا حصہ رہا ہے۔ ایرانی بادشاہ کاﺅس اور افراسیاب کے دور میں بھی ایران کی عملداری میں تھا ۔325قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا اس کی بحری فوج کے سپہ سالار نے اپنے جہاز اس کی بندرگاہ پر لنگر انداز کیے اور اپنی یادداشتوں میں اس علاقے کے اہم شہروں کو قلمات ،گوادر، پشوکان اور چابہار کے ناموں سے لکھا ہے۔ اہم سمندری راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے سکندر اعظم نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنے ایک جنرل کو یہاں کا حکمران بنا دیا جو303قبل مسیح تک حکومت کرتا رہا ۔303ق م میں برصغیر کے حکمران چندر گپت نے حملہ کر کے یونانی جنرل سے یہ علاقہ چھین لیا اور اپنی حکومت میں شامل کر لیا مگر 100سال بعد 202ق م میں پھر یہاں کی حکمرانی ایران کے بادشاہوں کے پاس چلی گئی ۔ 711عیسوی میں مسلمان جنرل محمد بن قاسم نے یہ علاقہ فتح کر لیا۔ ہندوستان کے مغل بادشاہوں کے زمانے میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا جب کہ 16ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد علاقوں جن میں یہ علاقہ بھی شامل تھا پر قبضہ کر لیا۔ 1581ءمیں پرتگیزیوں نے اس علاقے کے دو اہم تجارتی شہروں پسنی اور گوادر کو جلا دیا ۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے تو کبھی رندوں کو حکومت ملی کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچ کیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔مگر اہم حکمرانوں میں بلیدی اورگچ کی قبیلے ہی رہے ہیں۔ بلیدی خاندان کو اس وقت بہت پذیرائی ملی جب انھوں نے ذکری فرقے کو اپنالیا اگرچہ گچ کی بھی ذکری فرقے سے ہی تعلق رکھتے تھے ۔1740ء تک بلیدی حکومت کرتے رہے ان کے بعد گچ کیوں کی ایک عرصہ تک حکمرانی رہی مگر خاندانی اختلافات کی وجہ سے جب یہ کمزور پڑے تو خان قلات میر نصیر خان اول نے کئی مرتبہ ان پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ان دونوں نے اس علاقے اور یہاں سے ہونے والی آمدن کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ 1775ء کے قریب مسقط کے حکمرانوں نے وسط ایشیاء کے ممالک سے تجارت کے لیے اس علاقے کو مستعار لے لیا اور گوادر کی بندر گاہ کو عرب علاقوں سے وسط ایشیاء کے ممالک کی تجارت کے لیے استعمال کرنے لگے جن میں زیادہ تر ہاتھی دانت اور اس کی مصنوعات ، گرم مصالحے ، اونی لباس اور افریقی غلاموں کی تجارت ہوتی تھی ۔   پاکستان  کو اس بحران سے نجات دلا نے کیلے جدید مغربی فکر کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والے قرونِ وسطٰی کے مسلمان حکما ابوبکر رازی( 932ء )اور ابن رشد (1126-1198ء)کے افکار سے آج بھی راہنماھی حاصل کر سکتےہیں۔ رازی اسلاف پرستی کے سخت خلاف ہے۔وہ منقولات کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ عقل اور تجربے کو علم کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے اسکی سوچ کا انداز عوامی تھا وہ کہتا تھا کہ عام لوگ بھی اپنے مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور سائنسی سچائیوں کے ادراک کے اہل ہیں ۔اسکا قول تھا کہ ہم کو مذہب پر تنقید کا پورا حق حاصل ہے ۔وہ معجزوں کا منکر تھا کیونکہ معجزے قانون قدرت کی نفی کرتے ہیں اور مذاہب عموماً  لوگوں میں نفرت وعداوت پیدا کرتے ہیں۔وہ معاشرے کے بارے میں افلاطون کی کتاب’’ تماؤس‘‘ کے ارتقائی تصور سے اتفاق کرتا تھااور اقتصادی پہلو کو اہمیت دیتے ہوئے تقسیم کار کی افادیت پر زور دیتا تھا۔  ابن رشد تو طبیب تھا لیکن یورپ میں اسکی شہرت کی وجہ فلسفہ تھا ،بلخصوص ارسطو کی شرحیں۔ابن رشد بارہویں صدی سے سولہویں صدی تک یورپ میں سب سے غالب مدرسہ ء مفکر تھا حالانکہ عیسائی پادری اسکے سخت خلاف تھے ۔ابن رشد تعلیمات کا لب و لباب یہ تھا: ۔کائنات اور مادہ ابدی اور لافانی ہیں ۔ خدا دنیاوی امور میں مداخلت نہیں کرتا۔عقل لافانی ہیں اور علم کا زریعہ ہیں۔
خالدہ ادیب خانم ترکی کی زہنی پسماندگی اور قدامت پسندی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ ’’جس وقت مغرب نے روایت پرستی کی زنجیروں کو توڑا اور نئے علم اور سائنس کی طرح ڈالی تو اسکا اثر یہ ہوا کہ دنیا کی شکل بدل گئی مگر اسلام کا مذہبی جسد اپنے تعلیمی فرائض کی ادائیگی میں سراسر ناکام رہا۔علماء اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ انسانی علم و حکمت تیرھویں صدی سے آگے نہیں بڑھی ہے۔ انکا یہ اندازِ فکر انیسویں صدی تک بدستور قائم رہا۔ عثمانی علماء نے ترکی میں نئی فکر کو ابھرنے کا موقع ہی نہیں دیا وہ جب تک مسلم قوم کی تعلیم کے نگراں رہے انہوں نے اسکا پورا پورا بندوبست کیا کہ تعلیمی نصاب میں کوئی نئی فکر داخل نہ ہونے پائے لہٰذا علم پر جمود طاری ہوگیا۔مزید برآں یہ حضرات ملکی سیاست میں اس درجہ الجھے ہوئے تھے کہ انکو اصلاحا ت پر غور کرنے کا وقت ہی نہیں ملا۔ مدرسے وہیں رہے جہاں وہ تیرھویں صدی میں تھے‘‘
آآآ سیاسی کارکنوں اور سماجی تنظیموں کے پیشہ ور ماہرین کے اشتراک سے ایک متبادل ماڈل تیسری دنیا  کے ممالک کی پائیدار ترقی ، بین االقوامی تعلقات، پیشہ وارانہ تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی،  کیپٹل مارکیٹس، مائیکرو فنانس، اکنامک گورننس ،  سماجی احتساب،انسانی وسائل کے لیے تربیت، ووکیشنل ٹریننگ، میڈیا اور سول سوسائٹی عالمگیریت پر مبنی سماجی ترقی میں اہم اوزارہیں۔  کارپوریٹ اجارہ داری اور تنگ نظری کے خلاف ورلڈ سوشل فورم یا وال سٹریٹ قبضہ جیسی  تحیریکیں سماجی تنظیموں کی سیاسی جدوجہد ہی ہے۔  چند بنیادی سوالوں کی حامل متنوع مہارت کے ساتھ، پائیدار ترقی اور جمہوری معاشرے کی  تشکیل  کے لیےآج پاکستان کو متوسط طبقے کےدانشوروں، ماہرین اور ٹریڈ یونین  پرمشمتمل  نئی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے۔
 اہم  بین االقوامی مسائل، قدرتی وسائل ماحولیاتی نظام ،غربت، ناخواندگی تجارت ، سرمایہ کاری، اقتصادی پالیسی، موسمیاتی تبدیلی ؛توانائی اورپائیدار ترقی میں ٹیکنالوجی کے کردار، یونیورسٹیوں، اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے مراکز سے منسلک سرگرمیوں  پر مہارت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری  اداروں اور مینوفیکچررز  پائیدار ترقی میں  سیاست، گورننس کے نئے امکانات فراہم کر تے ہیں۔ اقوام متحدہ گلوبل کمپیکٹ شہر پروگرام پائیدار سیاسی ترقی ریاستوں اور حکمرانی کے ایک طریقہ کی وضاحت کی ہے۔  قانونی اور ریگولیٹری سے متعلق سماجی زندگی،  انسانی حقوق، سیاسی طریقوں اور سماجی طاقت کے بنیادی مسائل کے حوالے سے  سیاسی ، اقتصادی ماحولیاتی اور ثقافتی چیلنجزکے لئےاداروں اور عوام کے درمیان تنظیم  حکمرانی، قانون ، انصاف ، ابلاغیت، تنقید  نمائندگی، مذاکرات  سلامتی ، معاہدے ۔مذاکرات اور مفاہمت  پر مبنی معیارات   سوالات اٹھاتے ہیں۔
پائیدار ماحولیاتی نظام  انسانوں اور ان کے قدرتی، سماجی اور تعمیری ماحول کے درمیان تعلق کا حصہ ہے. ماحولیات اور
انسانی صحت  پائیدار ترقی میں شامل ہیں. اس طرح ہوا، پانی، خوراک ، پناہ کی دستیابی اور بنیادی انسانی ضروریات
 بھی پائیدار ترقی کے لئے ماحولیاتی بنیادیں ہیں۔  پائیدار زراعت انسانی یا قدرتی نظام کو پہنچانے والے نقصان کے بغیر فصلوں یا مویشیوں کی پیداوار جو کاشتکاری کے .ماحول دوست  طریقوں پر مشتمل ہوتا  ہے۔  پائیدار توانائی ہائیڈروپاور، ونڈ پاوراور شمسی توانائی بیشتر ممالک استعمال کر رہے .ہائیڈرو اور ونڈ پاور، توانائی کے حصول میں عظیم وسائل رکھتی ہیں
متوسط طبقے کےدانشوروں اور ماہرین پرمشمتمل  مجوزہ نئی سیاسی قیادت کے مقاصد اور اهداف  پر مبنی  تھنک ٹینک کا قیام جو  سیاسی تبدیلی، اقتصادی ماحولیاتی اور ثقافتی ترقی کے لئے درج ذیل  اداراتی سوالات پر  بحث شروع کر سکے:
  اقوام متحدہ کے ڈیکلیریشنز، چارٹر ، کنونشن ، امن و سلامتی، اور ترقی کے لئے علاقائی اور کثیرالجہتی طرز عمل،  کشمیر تنازعہ،بھارت تجارت  پاکستان چین تجارتی راہداری، انسانی حقوق، ترقی، بین المذاہب اور بین الثقافتی ہم آ ہنگی معیشت؛ سماجی ، سیاسی  اور تعلیمی  اصلاحات، معیار زراعت وخوراک ۔ پیداوارکی تصدیق،  صارفین کے حقوق تحفظ،  کارپوریٹ سول سوساٹیئ شراکت داری،  فارمنگ، زرعی اصلاحات، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ،ہائی ٹیک، توانائی، ماحولیات، شپنگ، صنعتی، زراعت، سیاحت،  اور دیگر فنی اور پیشہ ورانہ مہارت کےتعلیمی اداروں کا قیام؛  سماجی انفراسٹرکچر، انسانی وسائل، صنفی امتیاز کے خاتمے اور خواتین بہتری کے مواقع ،  کمیونٹی ہیلتھ، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی، شہری منصوبہ بندی،  شہری / صنعتی ویسٹ مینجمنٹ، جانوروں / جنگلی حیات کے بارے میں شعور، دیہی علاقوں اور شہری بستیوں مین صاف پانی  بنیادی تعلیم،  حفظان صحت، صفائی اور معیار زندگی  سمیت ضرورت مند غریبوں اور مفلسوں، بچوں نوجوانوں اور خواتین  کے لئے  مائیکروفنانس،ایس ایم ای، کاروباری انکیوبیٹرزاقدامات واہداف
 پاکستان جنوبی ايشياء کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لیے دفاعی طور پر اہم حصے میں واقع 20 کروڑ کی آبادی کے ساتھ یہ دنیا کا چھٹا بڑی آبادی اورچھتیسواں بڑے رقبے والا ملک ہے۔  یہ ایک متنوع کثیر الثقافتی مملکت ہے جسکے نامیتی اظہار باہم متصادم رہے ہیں۔پاکستان کی وفاقی اکایاں تاریخی طور پر مشترکہ اقدار کی حامل نہین ہیں۔ پاکستان کو ایک کثیر القومی ریاست ، جس میں پنجابی، سندھی، بلوچ اور پختون قوم  کی وفاقی اکایاں  ہزارہ،  ڈیرہ اسماعیل خان ، سرائیک، پوٹھوہار، تقسیم ہند کا مہاجر مسئلہ،افغان پناہ گزینوں، سٹاک ایکسچینج، فنانس، مواصلات، صنعت، نقل و حمل، میڈیا، فنون لطیفہ، فلم،  سافٹ وئیر، طبی تحقیق، تعلیم، سیاحت اور دیگر اہم معاشی شعبوں میں زوال پزیراشاریے ، بحران کی شدت میں اضافہ کررہے  ہیں۔  ریاست اور مذہبیت، عسکریت پسندی، مخامصمانہ خارجہ پالیسی، فرقہ وارانہ رشتوں میں تبدیل ہوتےہوے سول فوجی تعلقات اورقومی سوال سے جڑے ہوے لبناننائزیشن اور بلیکنائزیشن خانہ جنگی کے خدشات  کثیر القومی ریاست  کی تشکیل  نو، اقتصادی ترقی اورسیکولرسیاسی اور تعلیمی  اصلاحات ؛ جمہوری عمل  ماحولیاتی اور ثقافتی پائیداری کی بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف  تنظیم،تعلیم،سوچ  اور جدوجہد کےزریعے قابو پاکرہی دور کیے جا سکتے ہیں۔

گوادر سے بحری/سمندری شاہراہ ریشم، چین، ایران، روس، آزربائیجان، قازقستان،ترکمانستان، اومان، ترکیہ، جارجیا، بیلاروس، ازبکستان،کرغیزستان، تاجکس...