اگر تمہیں جنت میں جانا ہے تو تمہار اس دین پر ایمان ہونا چاہیئے کیونکہ تم چاہے کتنے ہی اچھے ہو جنت صرف اسے ملے گی جس کا عیسیٰ پرایمان ہوگا
۔ آندریاس کا یہ جواب مجھے بہت برا لگا، میں نےتو کبھی کسی کے جنت یا جہنم میں جانے کا فتویٰ جاری نہیں کیا تو آج مجھے کیوں جہنم میں جانے کا حقدار ٹہرایا جارہا ہے۔لیکن شاید بات اتنی سادی نہیں ہے، دراصل یہ سوال میں نے ہی آندریاس سے کیا تھاکہ تم مجھے جانتے ہو، چھوٹی موٹی برائیوں کہ سواء جوکہ سب ہی میں ہوتی ہیں میں اخلاقی طور پر ایک بہت اچھا انسان ہوں ، تو پھر کیا وجہ ہے کہ میری ان تمام اچھائیوں کے باوجود، اس دنیا میں ایک پرامن اور اخلاقی زندگی گزارنے کا صلہ مجھے یہ ملے گا کہ میں جہنم میں جاوَں گا؟ آندریاس کے لئے یہ ایک مشکل سوال تھاکیونکہ سویڈش لوگ ذیادہ تر دوسرے لوگوں کے مذہب اور نظریات پر تبصرہ نہیں کیا کرتےلیکن میں اور آندریاس کوئی اجنبی نہیں تھے اسی لئے اس نے وہی جواب دیا جس کی توقع کسی بھی مذہبی شخص سے رکھی جاسکتی تھی یعنی اگر میں مخصوص نظریات پر ایمان نہیں رکھتا تو محض میرا اخلاقی طور پر اچھا ہونا اور اچھے کام کرنا مجھے جنت میں نہیں لے جاسکتے۔ایک لمحے کو جی میں یہ آیا کہ میں اس معاملے پر اچھی خاصی بحث کرسکتا ہوں لیکن مجھے معلوم تھا اس بحث کا فائدہ کوئی نہیں کیونکہ آندریاس میرے ہرسوال کے جواب میں منطقی جواز دینے کے بجائے مذہبی جواز دیگا، اس لئے میں نے جاتے سال کہ
آخری شام کو بحث کی نظر کرنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ سوال کہ جنت میں جانے کہ لئے ایمان اعمال سے ذیادہ اہم کیوں ہیں آندریاس سے میرے مقالمے سے کئی روز قبل ہی سے میرے دما غ میں کلبلارہا تھا۔چوبیس دسمبر کی شام میں لیلیٰ کی جانب سے دی گئی ایک کرسمس ضیافت مدعو تھا، لیلیٰ دراصل ایک ریٹائرڈ نفسیاتی معالج برائے اطفال ، اور ایک دوست کی دوست ہے۔باوجود ریٹائرمنٹ لیلیٰ اب بھی بچوں خصوصا تارکینِ وطن بچوں کے لئے مفت کام کرتی ہے اور ہر سال کرسمس سے ایک دن قبل ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کرتی ہے جس میں بچے اور ان کے والدین شریک ہوتے ہیں۔اس سال کی ضیافت میں لیلیٰ نے مجھے بھی مدعو کیا بنیادی طور پر تو ہاتھ بٹانے کے لئے لیکن اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی ۔ یوں تواس ضیافت میں ہر رنگ ،نسل اور مذہب کے لوگ موجود تھے لیکن کھانا خصوصی طور پر حلال رکھا گیا تھا تاکہ تمام لوگ کھا سکیں۔کھانے کے بعد لیلیٰ ایک بوری نما بڑاسا تھیلا اٹھالائی اور تمام بچوں کو تحفے دیے ، یہ تمام تحفے نئے تھے اور میرے خیال میں ان کی مجموعی مالیت کم از کم دو ہزار کراوَن تو ہوگی ہی۔ان تحفوں کووصول کرنے والے بچوں کی خوشی دیدنی تھی، خوشی میں اچھلتے یہ بچے اپنے اپنے تحفے ایک دوسرے کو دیکھا رہے بلا تفریقِ رنگ و نسل ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں بانٹ رہے تھے۔ کہتے ہیں کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں بچوں کی اس خوشی ، انکا جوش اور انکی مسکراہٹیں دیکھ ہم تمام بالغان بھی مسرور تھے۔ دنیا بھر میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو گو کہ ہمارے مذہب پر ایمان تو نہیں رکھتے لیکن انکے اعمال بہت شاندار ہیں، ان میں سے کچھ دوسرے مذاہب پر یقین رکھتے ہیں، کچھ دہریے ہیں اور کچھ لیلیٰ کی طرح اگناسٹک بھی ہیں۔جس طرح میں آندریاس کی نظر میں جہنمی ہوں اسی طرح بہت سوں کی نظر میں لیلیٰ بھی جہنمی ہے اور اس کے اچھے اعمال، اس کی اخلاقی زندگی اس کے کچھ کام نہ آئے گی، میرے لئے کم از کم میرے اپنے مذہب میں جنت کی ایک امید تو موجود ہےلیکن لیلیٰ کے لئے شاید وہ بھی نہیں کیونکہ وہ اگناسٹک ہے یعنی خدا کے وجود کے بارے میں غیر یقینی کا شکارہے۔ہم سب نے یہ حکایت تو سن ہی رکھی ہوگی کہ کس طرح ایک شخص ایک پیاسی کتیا کو پانی پلانے کی وجہ سے جنت کا حقدار بنا، اگرمیں جہنم میں گیا بھی تو یہ بات میرے لئے قابلِ حیرت نہ ہوگی کیونکہ زیادہ ترمسلمانوں کی طرح میں کوئی بہت اعلیٰ مسلمان نہیں ہوں اور نہ ہی میں اپنے اعمال میں کوئی ایسا کارنامہ پاتا ہوں کہ جس کی بناء پر میں اس شخص کی طرح جنت کا حقدار بن جاوَں لیکن جو بات میری سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ ہے کہ آخر لیلیٰ کیوں جہنم میں جائےگی؟
Bilal Imtiaz Ahmed
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آزاد فکرتجربی سوچ کا کا نتیجہ ہوتی ہے جو عقل' منطق ' علم اور شک کے ا شتراک سے پروان پاتی ہے. یہ وہموں کی بنیاد پر جگہ بنانے والی زہریلی سوچ اور طرز عمل کو للکارتی ہے جمے ہوے پسماندہ رویوں اور ان میں پوشیدہ طاقتوں کے مفادات کو بےنقاب کرتی ہی. یہ مسائل کو حل کرنے کے روشن خیال 'سیکولر اور سائنسی طریقے اختیار کرتیہے. یہ آپ سے پوری جرات اور شعور کی بنیاد تجریدی وہموں کو مسترد اور زندگی میں سائنسی اقدار اپنانے کا مطالبہ کرتیہے. یہ عظیم اخلاقی اقدار کو انسانی اور سماجی ارتقا کا لازمی ایسا مانتی ہے . انسان کو رنگ' نسل، مذہب اورلسانی شناختوں پر منقسم منافرتوں کو پوری طاقت سے مسترد کرتی ہے. آزاد فکر انسانیت، علم اور سچ کو اپنا اثاثہ مانتی ہے' اس فورم پر آپ کو خوش آمدید ' ہم امید رکھتے ہیں آپ تمام دوستوں کا احترام کرتے ہوے مثبت طرزعمل کے ساتھ اس فورم پر علمی' ترقی پسنداور جہموری سوچ کو فوروغ دیں گے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آزاد فکرتجربی سوچ کا کا نتیجہ ہوتی ہے جو عقل' منطق ' علم اور شک کے ا شتراک سے پروان پاتی ہے. یہ وہموں کی بنیاد پر جگہ بنانے والی زہریلی سوچ اور طرز عمل کو للکارتی ہے جمے ہوے پسماندہ رویوں اور ان میں پوشیدہ طاقتوں
کے مفادات کو بےنقاب کرتی ہی. یہ مسائل کو حل کرنے کے روشن خیال 'سیکولر اور سائنسی طریقے اختیار کرتیہے. یہ آپ سے پوری جرات اور شعور کی بنیاد تجریدی وہموں کو مسترد اور زندگی میں سائنسی اقدار اپنانے کا مطالبہ کرتیہے. یہ عظیم اخلاقی اقدار کو انسانی اور سماجی ارتقا کا لازمی ایسا مانتی ہے . انسان کو رنگ' نسل، مذہب اورلسانی شناختوں پر منقسم منافرتوں کو پوری طاقت سے مسترد کرتی ہے. آزاد فکر انسانیت، علم اور سچ کو اپنا اثاثہ مانتی ہے' اس فورم پر آپ کو خوش آمدید ' ہم امید رکھتے ہیں آپ تمام دوستوں کا احترام کرتے ہوے مثبت طرزعمل کے ساتھ اس فورم پر علمی' ترقی پسنداور جہموری سوچ کو فوروغ دیں گے