جنیوا: دنیا بھر میں ہر سال مجموعی طور پر دس لاکھ افراد خودکشی کرلیتے ہیں۔ یہ تعداد جنگوں یا دیگر حادثات و واقعات میں ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے جمعہ کو یہ انکشاف کرتے ہوئے زور دیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہےہر چالیس سیکنڈ میں ایک شخص اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لیتا ہے جبکہ اقدامِ خودکشی کی شرح بیس گُنا ذیادہ ہے۔ آئندہ پیر کو دنیا بھر میں منائے جانے والے ‘خودکشی کی روک تھام کے عالمی دن’ کے موقع پر عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ جاری کی جائے گی۔ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اوسطاً ہر چالیس سیکنڈ میں ایک شخص اپنے ہاتھوں اپنی جان لے لیتا ہے۔ یوں، مجموعی طور پر سالانہ دس لاکھ افراد خودکشی کے ذریعے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اگرچہ ہلاکتوں کے یہ اعداد و شمار تکلیف دہ اور حیران کن ہیں مگر رپورٹ کے مطابق اقدامِ خودکشی کے واقعات اس سے بیس گُنا زیادہ ہیں۔رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر مجموعی باشندوں کا پانچ فیصد ایسا ہے جو زندگی میں ایک بار ضرور اپنے ہاتھوں اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ صورتِ حال سنگین تر ہوتی جارہی ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ خودکشی کے رجحانات کو ختم یا کم از کم ان میں کمی لانے کے لیے صحتِ عامہ اور سماجی صورتِ حال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ادارے نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خودکشی کے اس رجحان میں کمی کے لیے فوری اقدامات کریں۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ ‘حکومتیں، صحت اور دیگر سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری کرکے انسانی و معاشی صورتِ حال کو بہتر بنائیں تو اس سے خودکشی کے رجحانات ممیں کمی لائی جاسکتی ہے۔’
عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ مرتب کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سکسینہ کا کہنا ہے کہ ‘حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے کچھ ملکوں میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں ساٹھ فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔’
رپورٹ کا کہنا ہے کہ ‘اگرچہ دنیا کے امیر ترین ملکوں میں بھی خودکشی ایک مسئلہ ہے تاہم اس سے ہونے والی ہلاکتیں زیادہ تر کم یا متوسط شرح آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔’
آگے چل کر ماہرین کہتے ہیں کہ ‘غریب ممالک میں ایسے حکومتی اقدامات کی شدید کمی ہے جن سے خودکشی کے رجحانات میں کمی ہوتی ہو۔’
دستاویزی شواہد کے مطابق خود کشی کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ مشرقی یورپ کے ممالک، جیسے لتھوانیا اور روس، میں ہوا۔ جب کہ سب سے کم شرح لاطینی امریکا کے ممالک میں دیکھنے کو ملی۔
امریکہ، مغربی یورپ اور ایشیا میں خودکشی کی شرح درمیانی سطح پر ہے۔
رپورٹ کا کہنا ہے کہ افریقہ اور جنوب مشرقی افریقہ کے ممالک میں خودکشی کے حوالے سے اعدادو شمار دستیاب نہیں ہوسکے۔
عالمی طور پر دستیاب شدہ اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سے اُنیس سال کی عمر کے نو جوانوں کی اموات کا دوسرا بڑا سبب خودکشی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال قریباً ایک لاکھ ٹین ایجرز خودکشی کرلیتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق بالغوں میں پچھترسال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں خودکشی کی شرح سب سے زیادہ ہے۔
اس حوالے سے رپورٹ کا کہنا ہے کہ ‘نوجوانوں کے مقابلے میں بوڑھے افراد میں خودکشی کے رجحانات زیادہ ہوتے ہیں اور وہ اس کے لیے زیادہ مہلک طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جس سے ان کے بچنے کے امکانات بھی بہت کم رہ جاتے ہیں۔’
اقدامِ خودکشی کے حوالے سے رپورٹ میں دلچسپ انکشاف کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ مردوں میں خواتین کی نسبت خودکشی کے رجحانات تین گنا زیادہ ہوتے ہیں۔
مردوں کی نسبت عورتوں میں خودکشی کی شرح کم ہے۔ جس کی وضاحت کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مرد خواتین کی نسبت اپنی جان لینے کے لیے زیادہ مہلک طریقے استعمال کرتے ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آزاد فکرتجربی سوچ کا کا نتیجہ ہوتی ہے جو عقل' منطق ' علم اور شک کے ا شتراک سے پروان پاتی ہے. یہ وہموں کی بنیاد پر جگہ بنانے والی زہریلی سوچ اور طرز عمل کو للکارتی ہے جمے ہوے پسماندہ رویوں اور ان میں پوشیدہ طاقتوں
کے مفادات کو بےنقاب کرتی ہی. یہ مسائل کو حل کرنے کے روشن خیال 'سیکولر اور سائنسی طریقے اختیار کرتیہے. یہ آپ سے پوری جرات اور شعور کی بنیاد تجریدی وہموں کو مسترد اور زندگی میں سائنسی اقدار اپنانے کا مطالبہ کرتیہے. یہ عظیم اخلاقی اقدار کو انسانی اور سماجی ارتقا کا لازمی ایسا مانتی ہے . انسان کو رنگ' نسل، مذہب اورلسانی شناختوں پر منقسم منافرتوں کو پوری طاقت سے مسترد کرتی ہے. آزاد فکر انسانیت، علم اور سچ کو اپنا اثاثہ مانتی ہے' اس فورم پر آپ کو خوش آمدید ' ہم امید رکھتے ہیں آپ تمام دوستوں کا احترام کرتے ہوے مثبت طرزعمل کے ساتھ اس فورم پر علمی' ترقی پسنداور جہموری سوچ کو فوروغ دیں گے