منگل، 4 ستمبر، 2012



 لیبیا کے سابق مقتول صدر معمر قذافی کے اسیر بیٹے کی یہودی گرل فرینڈ

اسرائیلی ماڈل کی ٹونی بلئیر سے سیف قذافی کی زندگی بچانے کی اپیل






اسرائیلی ماڈل اور اداکارہ اورلی وائنرمین
اسرائیل کی ایک ماڈل اور اداکارہ اورلی وائنرمین نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر سے لیبیا کے سابق مقتول صدر معمر قذافی کے زیرحراست بیٹے سیف الاسلام قذافی کی زندگی بچانے کی اپیل کی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی اطلاع کے مطابق اورلی وائنرمین کا دعویٰ ہے کہ وہ سیف الاسلام قذافی کی معشوقہ (گرل فرینڈ) رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ''سیف الاسلام قذافی کے اپنی گرفتاری سے قبل ٹونی بلئیر کے ساتھ قریبی تعلقات رہے تھے۔وہ دونوں پرانے دوست رہے ہیں۔اب یہ وقت ہے کہ ٹونی بلئیر کچھ وفاداری کا ثبوت دیں۔ایک عیسائی ہونے کی حیثیت سے ان کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ ضرورت کے وقت اپنے دوست کی مدد کریں''۔

اکتالیس سالہ ماڈل اور اداکارہ اورلی وائنرمین نے نے یہ باتیں برطانوی اخبار ڈیلی میل سے اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے کہی تھیں اور ان کا یہ بیان اسرائیلی اخبار ہارٹز اور ایک نیوز ویب سائٹ نے بھی نقل کیا ہے۔اس ماڈل کا کہنا ہے کہ اس کی 2005ء میں لندن میں سیف الاسلام قذافی سے پہلی مرتبہ دوستوں کی مدد سے ملاقات ہوئی تھی۔اس کے بعد وہ دونوں چھے سال تک دوست رہے تھے۔ 

اس کے بہ قول:''سیف الاسلام نے خود کو مجھ ایسی ایک یہودیہ کے ساتھ محبت کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا تھا اور وہ میرے ساتھ شادی پر بھی آمادہ تھے۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ کتنے کھلے ذہن کے مالک اور مہذب ہیں''۔

اس ماڈل کا کہنا ہے کہ ''میرے والدین میرے اسلام قبول کرنے کے خلاف تھے اور سیف الاسلام قذافی سے میرے تعلقات کو اسرائیلی پریس میں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا'' لیکن اورلی وائنرمین کے بہ قول مذہب کی تبدیلی ایک ایسا معاملہ تھا جس کے لیے ہمیں کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا لیکن اس کے بہ قول سیف نے کبھی اس کے مذہب اور ملک کو ایشو نہیں بنایا۔وہ پہلے لندن میں رہ رہی تھی۔اب اسرائیل لوٹ آئی ہے اور تل ابیب میں مقیم ہے۔

یادرہے کہ لیبیا میں سابق صدر معمر قذافی کے خلاف عوامی بغاوت کے دوران ملنے والی سرکاری دستاویزات سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی تھی کہ ٹونی بلئیر اور معمر قذافی کے درمیان قریبی تعلقات رہے تھے۔سابق برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے 2007ء میں لکھے ایک خط میں انھوں نے سیف الاسلام قذافی کو لندن اسکول آف اکنامکس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری دلوانے کے لیے معاونت کی پیش کش کی تھی۔

یہ بھی اطلاع منظرعام پر آچکی ہے کہ ٹونی بلئیر نے معمر قذافی کے ساتھ 2004ء میں ''صحرا میں ڈیل'' کے وقت ملاقات کی تھی اور اسی کے نتیجے میں لیبیا کے مقتول لیڈر کی عالمی سطح پر سفارتی تنہائی ختم ہوئی تھی۔

مقتول کرنل قذافی کے چالیس سالہ جانشین بیٹے کو 19 نومبر2011ء کو مغربی شہر زنتان میں مسلح جنگجوؤں نے گرفتارکیا تھا۔اس کے بعد سے انھیں زنتان میں ایک خفیہ جیل میں رکھا جارہا ہے۔لیبیا انھیں ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے حوالے کرنے سے انکار کرچکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ملک ہی میں انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا جبکہ آئی سی سی انھیں ہیگ بھیجنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ 

اورلی وائنرمین نے مذکورہ اخباری انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ''آپ کو مسٹر ٹونی بلئیر سے صرف یہ کہنا چاہیے کہ وہ (سیف قذافی) کتنا معزز شخص ہے۔آئی سی سی نے انھیں نیچے گرا دیا ہے۔عالمی برادری نے بھی یہی کچھ کیا ہے۔ان کو ہلاک کرنے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ان کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے''۔ 

لیبی حکام نے چند ہفتے قبل کہا تھا کہ سیف الاسلام قذافی کے خلاف زنتان ہی میں مقدمہ چلایا جائے گا جہاں وہ گذشتہ سال نومبر سے زیرحراست ہیں۔لیبیا کے محکمہ پراسیکیوشن کے ترجمان طہٰ ناصر برہ نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا تھا کہ ''پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کی ایک کمیٹی نے سیف الاسلام قذافی سے ملک میں 15 فروری 2011ء کو انقلاب کے آغاز کے بعد سے سرزد ہونے والے جرائم کے بارے میں اپنی تحقیقات مکمل کرلی ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''سیف الاسلام قذافی کے خلاف چارج شیٹ تیار کرلی گئی ہے اور آیندہ چند روز میں پراسیکیوٹر جنرل اس کی منظوری دیں گے جس کے بعد ستمبر میں ان کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوجائے گا''۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف اگر لیبیا میں مقدمہ چلایا جاتا ہے تو انھیں نئی حکومت کے تحت عدالتوں سے انصاف ملنے کی توقع نہیں۔اس لیے ان کے خلاف ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت ہی میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

وہ گذشتہ سال اپنے والد کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کو کچلنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں آئی سی سی کو مطلوب ہیں۔آئی سی سی نے گذشتہ سال ان کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت مخالف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

منگل 17 شوال 1433هـ - 04 ستمبر 2012م  العربيہ.نیٹ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

آزاد فکرتجربی سوچ کا کا نتیجہ ہوتی ہے جو عقل' منطق ' علم اور شک کے ا شتراک سے پروان پاتی ہے. یہ وہموں کی بنیاد پر جگہ بنانے والی زہریلی سوچ اور طرز عمل کو للکارتی ہے جمے ہوے پسماندہ رویوں اور ان میں پوشیدہ طاقتوں
کے مفادات کو بےنقاب کرتی ہی. یہ مسائل کو حل کرنے کے روشن خیال 'سیکولر اور سائنسی طریقے اختیار کرتیہے. یہ آپ سے پوری جرات اور شعور کی بنیاد تجریدی وہموں کو مسترد اور زندگی میں سائنسی اقدار اپنانے کا مطالبہ کرتیہے. یہ عظیم اخلاقی اقدار کو انسانی اور سماجی ارتقا کا لازمی ایسا مانتی ہے . انسان کو رنگ' نسل، مذہب اورلسانی شناختوں پر منقسم منافرتوں کو پوری طاقت سے مسترد کرتی ہے. آزاد فکر انسانیت، علم اور سچ کو اپنا اثاثہ مانتی ہے' اس فورم پر آپ کو خوش آمدید ' ہم امید رکھتے ہیں آپ تمام دوستوں کا احترام کرتے ہوے مثبت طرزعمل کے ساتھ اس فورم پر علمی' ترقی پسنداور جہموری سوچ کو فوروغ دیں گے

گوادر سے بحری/سمندری شاہراہ ریشم، چین، ایران، روس، آزربائیجان، قازقستان،ترکمانستان، اومان، ترکیہ، جارجیا، بیلاروس، ازبکستان،کرغیزستان، تاجکس...