Saturday, September 1, 2012

روسی افسانے


 روسی افسانے





روس کو مغربی تہذیب کا آخری بچہ کہا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کی نسبت روس کی نشاة ثانیہ دو صدی بعد شروع ہوئی۔ تاہم روس نے ایسے ادیب اورمفکر پیدا کئے ہیں جن پرفکر انسان نازاں ہے۔ انیسویں صدی میںروسی مفکروں کی شہرت ماسکو سے نکل کر برلن، پیرس‘ لندن اور نیو یارک تک جا پہنچی۔
انیسویں صدی کے آخری نصف میںروس میں دو ادبی دیو نمو دار ہوئے۔ طالسطائی اور واسطوفسکی کی شہرت مملکت زار سے نکل کر اکناف عالم میں پھیل گئی۔ دونوں: زندگی، کردار، نفسیات اور انشا میں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھے، تاہم دونوں کی تصانیف نے” ملت احمر“ کے لئے بانگ درا کا کام کیا۔ دونوں ایک ہی منزل مقصود کی طرف مختلف راستوں سے گامزن تھے۔ دونوں کے افکار وآرا میں حیات نو کی تڑپ موجود ہے، دونوں کے ادبی کردار روس کی متحرک تصاویر ہیں۔
طالسطائی امیر خاندان کا چشم و چراغ تھا لیکن واسطو فسکی مفلوک الحال تھا۔ غریب خاندان کے لئے، زار کے ایوان عدل سے واسطوفسکی کی موت کا فتوی صادر ہوا لیکن بعد میں اسے سائبیریا بھیج دیا گیا۔ ان مصائب نے واسطوفسکی کو انسانی فطرت سے آشنا کردیا۔
طالسطائی1828ءمیں پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم کے بعد وہ قازان یونیورسٹی میں داخل ہوا، چند سال بعد وہ سینٹ پٹرز برگ میں دیکھاگیا، اس کی آوارگی نے طالسطائی کے بھائی نکولس کو مجبور کردیا کہ وہ اسے فوجی ملازمت کی ترغیب دے چنانچہ1851ءمیں وہ کاکیشیا چلا گیا۔ سبزہ و گل کی کثرت حسن کی سادگی اور کا کیشیا کی دہقانی دلچسپیوں نے نوجوان ذہن کی خوب تربیت کی حسن و عشق کی اس سر زمین میں طالسطائی نے قلم اٹھایا۔
1853ءمیں وہ کریمیا گیا جہاں تلواروں کے سایہ میں اس نے ” داستان سبا ستول“ لکھی۔
1860ءمیں نکولس کی موت کے باعث اسے واپس جانا پڑا۔ دو برس بعد اس نے شادی کی۔ اسی زمانہ میں” جنگ اور صلح“ اور ”اینا کرینا“ شائع ہوئیں۔1870ءکے قریب اس کے زاویہ نگاہ میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی اور آرٹ کی جگہ حقیقت نے لے لی۔ اس نے دہقان کی سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین شروع کی چنانچہ تمدن، ریاست، قانون، کلیسا اور ادب طالسطائی کی نگاہوں میں انسانیت کے منافی تھے۔1910ءمیں وہ بے سرو سامانی کی حالت میں گھر سے نکل پڑا لیکن بہت جلد وہ ایک غیر معروف ریلوے اسٹیشن پر بے جان نظر آیا۔
روسی افسانوں کے اس مختصر مجموعہ میں آپ طالسطائی کے دو افسانے” شراب اور شیطان اور” تین سوال“ پائیں گے۔
” شراب اورشیطان“ میں طالسطائی نے یہ ظاہر کیا ہے کہ جب انسان کے پاس کچھ نہیںہوتا تو وہ صبر و سکون سے کام لیتاہے لیکن جونہی اس کے پاس ضرورت سے زیادہ ہوا، وہ فوراً گناہ اور عصیان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
کسان اپناکھانا گم ہونے پر بھی صبر و سکون کے دامن کو ہاتھ سے نہیں کھوتا لیکن جب کسان کے پاس غلہ کی کثرت ہو جاتی ہے تواس کا کردار تبدیل ہو جاتا ہے۔ صبر و توکل والا کسان غصہ اور جوش کو کام میںلاتا ہے۔ اس کی سادگی، معصیت اورسیاہ کاری کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ وہی شیطان جو غریب اور مفلس کسان کو گمراہ کرنے میں ناکام ہوا، کسان کے پاس ضرورت سے زیادہ غلہ جمع کردیتا ہے ۔ کسان اس غلہ کو غربا میں تقسیم کرنے کی جگہ اس سے شراب نکالتا ہے اور اپنے دوست احباب کو مدعو کرتا ہے۔ شراب پینے کے بعد تمام مے نوش ایک دوسرے لے لڑتے جھگڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
بوڑھا شیطان اپنے شاگرد سے دریافت کرتاہے:
” شراب کی ایجاد خوب رہی ۔ مجھے توایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے یہ شراب وحشیوں اوردرندوں کے خون سے تیارکی ہے۔“
شاگرد جواب میں ترغیب گناہ کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
” نہیں استاد! اس میں درندوں وغیرہ کا خون نہیں۔ میرے لئے سب سے ضروری چیز یہ تھی کہ کسان کے پاس ضرورت سے زیادہ اناج ہو۔ وحشیوں اوردرندوں کا خون تو انسان میں پہلے ہی موجود ہے۔ جب اس کے پاس ضرورت سے زیادہ اناج ہوتو وہ خون اپنی اصلیت ظاہر کردیتا ہے۔“
طالسطائی کا دوسرا افسانہ” تین سوال “ ہے۔ اس افسانہ میں قدیم جھلک اور حقیقی طالسطایت نظر آتی ہے۔
1۔ کسی کام کو شروع کرنے کا موزوں وقت کیا ہے؟
2۔ کن اشخاص سے صحبت رکھنی چاہےے؟
3۔ دنیا میں سب سے زیادہ اہم اور ضروری کام کیا ہے؟
طالسطائی ان سوالوں کا جواب اس طرح دیتا ہے:
” کسی خاص کام کے لئے صرف ایک ہی موزوں وقت ہوا کرتا ہے جبکہ ہم میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ ہم اسے سر انجام دے سکیں۔“
” سب سے زیادہ ضروری شخص وہی ہوتا ہے جس کے ساتھ تم اس وقت موجود ہو کیونکہ اس بات کا معلوم کرنا کہ اس شخص کے سوا تمہیں کسی اورسے بھی واسطہ پڑے گا، انسان کے وہم و قیاس سے بالا ہے۔“
” سب سے ضروری اور اہم کام اس شخص سے نیکی کرنا ہے کیونکہ خدا نے انسان کو صرف اسی غرض کے لئے دنیا میں بھیجا ہے۔
جنگ کریمیا کے بعد روس میں اصطلا حات کامختصر زمانہ رہا۔1818ءکے بعد وہی حالت ہو گئی۔ جو الگزینڈر ثانی سے قبل تھی” آزاد خیال“ جماعت کے حوصلے پست ہو گئے۔ انہیں ناکامی اور مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے شمع حریت کے گل ہونے سے ملت روسیہ تاریکی میں چھوڑ دی گئی ہو۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ طالسطائی رجائیت کو خیر باد کہتاہو ا یاس وقنوط میں پنا ہ لیتا ہے۔ اسی زمانہ کی بہترین تصویر گارش اور چیخوف کے افسانوں اورناڈلسن کے اشعار میںنظر آتی ہے۔
چیخوف1860ءمیں پیدا ہوا۔ ماسکو یونیورسٹی سے طب کی اعلی سند حاصل کرنے کے بعد اس نے ادبی زندگی شروع کی ۔ وہ ابتداءمیں مختصر” فکاہی قلمی چہرے“ مختلف جرائد میں اشاعت کے لئے بھیجتا رہا۔ آہستہ آہستہ اس نے افسانے لکھنے شروع کئے۔ افسانوں میں مزاحیہ رنگ یک قلم غائب نظر آتا ہے۔ چیخوف کی زندگی پرسکون اور خاموش تھی۔ آخری عمر میں اس نے ڈرامہ کی طرف بھی توجہ کی۔1940ءمیں چیخوف اس جہاں سے چل پڑا۔
چیخوف کے زمانہ میں روس کی اخلاقی حالت بہت پست تھی۔ سیاسی طور پر بھی روس میں آزادی کا کہیں نام ونشان تک نہ تھا۔ جب گرد و پیش یہ حالات ہوں تو چیخوف کے بربط فکر سے سوائے، المیہ نغموں کے اور کون سی صدا اٹھ سکتی تھی۔
چیخوف کے مختصر افسانے روسی زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالتے ہیں۔اس کے کردار روز مرہ زندگی کے انسان نظر آتے ہیں۔ اس کا تخیل شاعرانہ مبالغہ سے پاک ہے۔
1860ءمیں ڈارون اور علم الابدان کا چرچا تھا لیکن دس برس بعد مارکس اور اشتمالیت کا تذکرہ ہوا۔ روس کے ادبی حلقوں میں مارکس نے شمع ہدایت کا کام کیا ۔
کیا چیخوف معلم اخلاقیات تھا؟
نہیں۔ بلکہ وہ آرٹسٹ تھا۔
وہ زندگی کو اس طرح پیش کرتا جس طرح وہ اسے خود دیکھتا۔ وہ اس چنگاری کو جوانسانی سرشت میں پنہاں ہے،شعلہ بنانے کی کوشش کرتا، وہ ہمیشہ اس امر کی تعلیم دیتا کہ زندگی کی موجودہ مصیبتیں روبہ تغیر ہیں۔ دنیا اس قابل ضرور ہے کہ ہم اس میںرہیں۔ اپنے لئے نہ سہی بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے۔ چیخوف کا خیال تھا کہ چند صدی بعد دنیا مسرت و راحت سے لبریز ہو گی۔
رد عمل کے اسی زمانہ میں حال سے مایوس اور مستقبل سے پرا مید فلسفی اور مفکر پیداہوئے۔ ان لوگوں نے حال کے مصائب کو اس انداز میں بیان کیا کہ ان میں بعض جلا وطن کردیئے گئے۔
” خادمہ“ میں چیخوف ایک روسی خادمہ وار کا کی داستان غم بیان کرتا ہے۔ وار کا ایک تیرہ سالہ لڑکی ہے جس سے دن بھر کام لیا جاتا ہے:
وار کا انگیٹھی میں کوئلے ڈالو۔
وار کاسما وار گرم کرو۔ 
وار کا اپنے ا ٓقا کے بڑے بوٹ صاف کرو۔
وار کا سیڑھیوں کو دھو ڈالو۔
وار کا تین بوتلیں شراب لاﺅ۔
وار کا گلاس صاف کرو۔
وار کا کے لئے سب سے زیادہ تکلف دہ کام دن بھر شیر خوار بچہ کو لوری دینا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وار کا کی مالکہ نے اس کی نیند بھی خریدلی تھی۔
وار کا اپنے آقا کے بڑے بوٹ صاف کرنے کے لئے فرش پر بیٹھ جاتی اور سوچتی ہے کہ کیا ہی اچھا ہو اگر وہ اس بڑے بوٹ میں سر ڈال کر تھوڑا سا آرام کر لے۔
لیکن مالکہ کا یہ حکم کہ بچے کولوری دو، اسے ایک لمحہ بھی آرام کرنے نہیں دیتا۔ آخر کار انسان کی سرشت میں بغاوت کی جو چنگاری ہے وہ بھڑک اٹھتی ہے۔ وار کا اپنی زندگی پر غور کرتی ہے وہ مصیبت کے سر چشمہ کو ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہتی ہے۔
” وہ اس طاقت کو جس نے اس کے ہاتھ پاﺅں باندھ رکھے ہیں، جو اس کی چھاتی پر بوجھ ڈال رہا ہے، جو اسے زندہ نہیں رہنے دیتی.... نہیں سمجھ سکتی، اسی طاقت کی جستجو کے لئے اپنے ارد گرد نظر دوڑاتی ہے تاکہ اس کی گرفت سے آزاد ہو سکے، مگر بے سود۔ روشنی کے رقصاں دھبوں اور کپڑوں کے متحرک سائے پر نظر دوڑانے کے بعد وہ اس دشمن کو پالیتی ہے جو اس کی زندگی میں سدِراہ ہو رہا ہے۔
وہ دشمن کون تھا؟ وہی بچہ جسے سلانے کے لئے۔” سو جاﺅ میرے ننھے سو جاﺅ“کہتے کہتے وار کا کی زبان تھک جاتی۔ اب یہ الفاظ زبان پر لاتی ہے۔
” بچے کی موت کے بعد نیند .... نیند.... نیند۔“
وہ نیند کے لئے بچہ کو ہلاک کرتی ہے لیکن اسے صرف موت کی ابدی نیند حاصل ہو سکتی ہے۔
ہر وہ چیز جو انسان کے لئے تکلیف دہ ہو، اسے ختم کردینا چاہےے۔ خواہ اس کے ختم کرنے میں جان تک بھی قربان کرنی پڑے۔
چیخوف کا دوسرا افسانہ” ایثار“ ہے۔ اس میں اس نے معمولی واقعہ سے ثابت کیا ہے کہ کائنات کا انحصار محبت اور صرف محبت پر ہو سکتا ہے۔
” محبت.... موت اور اس کی ہیبت سے کہیں زیادہ ہے اور صرف محبت ہی ایسی چیز ہے جو زندگی کے نظام کو قائم اور متحرک رکھتی ہے۔
اس افسانہ میں چیخوف کی نسبت طالسطائی کا رنگ زیادہ نظر آتا ہے۔
انیسویں صدی کا آخری نصف صنعتی ترقی کازمانہ تھا۔ دہقانی اشتراکیت کاخیال روسی اذہان سے بتدریج محو ہو رہا تھا۔ کسانوں کی جگہ کار خانوںمیں کام کرنے والے مزدوروں نے حاصل کر لی۔ روسی افسانہ نگار کی توجہ کسان سے منعطف ہو کر مزدور کی زبوں حالی اور واژگوں بختی میں مرکوز ہو گئی۔ کارل مارکس کے افکار نے روس کی قدیم” حزبی اشتراکیت“کا خاتمہ کردیا۔ اس زمانے کے گلستان ادب میں گورکی نے باد نسیم کا کام کیا۔ شباب مستقل مزاجی اور فکر جدید کے ساتھ گور کی روس کے ایوان ادب میں داخل ہوا.... شاید کرسی صدارت پرجلوہ افروز ہونے کے لئے....
گورکی کے افسانوں نے ایک جدید خیالستان کی طرح ڈالی۔ گورکی1868ءمیں پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کے چند روز بعد گورکی کاوالد انتقال کر جاتا ہے۔ اس کی پرورش اس کے دادا کے سپرد ہوئی۔ مستقبل کامفکر کفش دوز کی دوکان سے بھاگ کر ایک جہاز میںملازم ہونے کے بعد نانبائی کے ہاں پناہ لیتا ہے۔ قدرت کویہ مقصود نہ تھا کہ گورکی کفش دوزی کرے۔ بلکہ وہ حکمت کے ایسے خیمے تیار کرے جو سقف نیلو فری کے نیچے” ادبی جنت“ کاکام دیں۔
گورکی کاذہنی تلاطم اسے روس کی سرحدوں پر لئے پھرا۔ وہ خانہ بدوش سیاحوں میں شامل ہو کر بحیرہ اسود تک جا پہنچا۔1892ءمیں اس مقام پر اس کی پہلی تصنیف”سیاحت“شائع ہوئی۔ چند مزید تصانیف کے بعد گورکی کی شہرت تمام روس میں پھیل گئی۔
1905ءکے انقلاب میں حصہ لینے کے باعث اسے سر زمین روس کو خیر باد کہنا پڑا۔ روس چھوڑنے کے بعد اس نے میزینی اور گیری بالڈی کے وطن میں اقامت اختیار کی۔1917ءمیں زاریت کے خاتمہ کے بعد گورکی روس میں دوبارہ داخل ہوا۔ گورکی کا قلم اس وقت مخالف قوتوں کے خلاف معروف پیکار ہے ۔ اشتراکی روس میں لینن کے بعد گورکی قابل احترام شخصیت ہے۔ جس طرح انیسویں صدی میں ہیوگو کے افکار نے نوجوان قلوب پر قبضہ جما رکھا تھا، اسی طرح بیسویں صدی کانوجوان گورکی کے افکار و آرا اور فلسفہ حیات سے مسخر ہو چکا ہے۔” مزدور کی شکست میں ہم اپنے تئیں ایک تنگ وتار غار میں پاتے ہیں جہاں صبح سے شام تک نانبائی کام کرتے ہیں۔ روز مرہ کی تکلیف دہ زندگی اورشدت ان چھبیس متحرک مشینوں کو انسانیت کے دائرہ سے خارج کردیتی ہے۔اگر ان کا تلخ جام حیات کسی کی مستی بھری آنکھوں سے آب زندگی میں تبدیل نہ ہوتا، ان کی زندگی حیوانوں سے بدتر ہوتی۔ اگر مضراب حسن ان کے ساز حیات سے ہر روز نہ ٹکراتی، وہ سب کے سب محض مشینی انسان ہوتے۔ اگر ٹاٹنا ان کے خوابیدہ جذبات الفت کو اپنی حسین نگاہوں سے بیدار نہ کرتی، وہ مٹی کے بت ہوتے۔ اگر وہ ان سے ہم کلام نہ ہوتی، ان کے محفل حزن میںابدی سکوت طاری رہتا۔ مگرروسی دوشیزہ ان سے جدا کردی جاتی ہے۔ وہ ظالم آقا کے جوروستم سے بے حس حیوان تھے لیکن ٹاٹنا کے درس الفت نے انہیں انسانیت سے آشنا کردیا۔
ایک آوارہ مزاج اور اوباش ان چھبیس مزدوروں کے سامنے نمودار ہوتاہے یہ خوش گل اور خوش پوش مگر بد کردار انسان دعوے کرتا ہے کہ کوئی حسینہ اس کے دام فریب میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ چھبیس بے کس انسان اپنی مشترکہ محبوبہ کی اخلاقی جرات پر اعتبار کئے ہوئے تھے ۔ اعتبارنے انہیں دھوکہ دیا۔ ایک وضعدار ان کی امیدوں کے مرکز کو مٹا کر ان کا دائرہ حیات تنگ کردیتا ہے۔ شمع امید گل ہونے کے بعد پھر تاریکی میں نظر آتے ہیں۔
اس افسانہ سے گورکی کا شاید یہ مقصد ہو کہ کس طرح ایک پاک اور متبرک جذبہ ناہنجار لوگوں کی مداخلت سے ناپاک اور غیر متبرک صورت اختیار کرلیتا ہے۔
جس بھٹی میںدن بھر چھبیس مزدور کام کرتے، اسے گور کی ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
” صبح سے لے کر شام تک آتش کدہ کی طرف دیکھتی رہتی جس کی سرخ شعاعوں کا عکس دیوار پر اس طرح رقص کرتا معلوم ہوتا جیسے وہ ہم بد نصیبوں کو دیکھ کر خاموش ہنسی ہنس رہا ہو۔ وہ بھٹی کسی دیو کے بدوضع سر کے مشا بہ تھی جو اپنے بڑے حلق سے آگ اُگل رہا ہو، ہمارے سامنے جہنم کی جھلسا دینے والی گرمی ایسے سانس لے رہا ہو اور ہمارے غیر مختتم کام کو اپنی پیشانی کے دو سیاہ و تاریک سوراخوں سے مطالعہ کر رہا ہو۔ یہ دو عمیق سوراخ آنکھوں کے مشابہ تھے.... آنکھیں جو کسی دیو کی آنکھوں کی طرح ہمدردی اور رحمدلی کے جذبہ سے عاری ہوں۔
یہ آنکھیں ہمیشہ تاریک نظر سے دیکھتیں، جیسے وہ اپنے غلاموں کو دیکھتے دیکھتے تنگ آگئی ہوں اور اس بات کی توقع چھوڑ دی ہو کہ ہم جنس آدم میں سے ہیں۔ 
اقبال بلبل شوریدہ کے نالہ کو خام قرادیتا ہوا اسے اپنے سینہ میں رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن روسی مفکر خاموشی پر اس طرح اظہار خیال کرتا ہے:
” خاموشی ان اشخاص کے لئے جوسب کچھ کہہ چکے ہوں اورکچھ کہنے کے لئے باقی نہ رکھتے ہوں، خوف اور اذیت ہے مگر ان کے لئے جوابھی تک اپنی آواز سے ہی نا آشنا ہوں۔ خاموشی بجائے تکلیف دہ ہونے کے آسان اور راحت رساں ہے۔“
چھبیس مزدوروں کی حالت بیان کرتا ہوا لکھتا ہے:
” اسی دوران میں آگ کے شعلے بھٹی میں سے سرخ زبانیں نکال رہے ہوتے۔ نانبائی کی آہنی سلاخ بھٹی کی زرد اینٹوں پر تیز آواز سے کھیل رہی ہوتی۔ ابلتا ہو اپانی بدستور جاری رہتا اور شعلوں کاعکس دیوار پر رقصاں خاموش ہنسی ہنس رہاہوتا.... اور ہم کسی غیر کے لفظوں میں ان انسانوں کا دکھ درد بیان کرنے میں مصروف ہوتے جن سے سورج کی روشنی چھین لی گئی ہو.... جو غلام ہوں.... یہ تھی ہماری زندگی....چھبیس غلاموں کی زندگی اس قفس میں جس میں زندگی کے ایام اس قدر تلخ گزار رہے تھے کہ معلوم ہو رہا تھا کہ سنگین مکان کی منزلیں ہمارے گندھوں پر تعمیر کی گئی ہیں۔“۔
انسان کے دل میں حس کے احترام کے جذبات ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔
”ہر حسین چیز انسان کے دل میں وقعت اور عزت پیدا کردیتی ہے.... خواہ وہ انسان غیر تربیت یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔“
گورکی ادبیات روس میں ہر روز نمایاں اضافہ کر رہاتھا۔ جہاں تک پرواز تخیل کا تعلق ہے، انڈریف کے بعد سلوگب کا درجہ ہے۔ سلوگب1864ءمیں پیدا ہوا۔1895ءمیں اس نے اپنی نظموں کامجموعہ شائع کیا۔1905ءمیں” خورد سال شیطان“ شائع ہوئی اس وقت تک سلوگب متعدد ناول ڈرامے اور افسانے لکھ چکا ہے۔ مختصر افسانہ نگاری میں وہ اپنے ہم عصروں میں سب سے ممتاز نظر آتا ہے۔
اقبال پیام مشرق میں:۔ ابدی جدو جہد حیات اور سرمدی تنازع بقایاں واضح کرتا ہے 
بطے می گفت بحر آزاد گردید،
چیں فرمان ز دیوان خضر رفت
نہنگے گفت روہر جا کہ خواہی
ولے ازما نبائید بے خبر رفت
سلوگب” مساوات“ میںیہی خیالات پیش کرتا ہے۔
” پتھر کی سر گذشت“ میں سلوگب شاید یہ ثابت کرناچاہتا ہے کہ قوت ارادی سے انسان منزل مقصود پر پہنچ کرجب مقصد حیات سے غافل ہو جاتا ہے تو مخالف قوتیں اسے پسپا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ غفلت انسان کے لئے پیغام مرگ ہے 
گر بقدر یک نفس غافل شدی
دور صد فرہنگ از منزل شدی
(اقبال)
چیریکوف بونن کی طرح حیات انسانی کا عمیق ناظر ہے ۔ اس کے افسانوں میں تازگی اور مسرت کے باوجود غم کی لطیف جھلک نظر آتی ہے۔
” جادوگر“ میں مزدوروں کی ہڑ تال کا منظر پیش کرنے کے بعد ایک بچے کی نفسیات بیان کی گئی ہیں جو اپنی ماں سے دریافت کرتا ہوا مزدوروں کی حمایت کرنا چاہتا ہے۔ مگر ماں اسے زیادہ گفتگو کا موقع نہیں دیتی۔ ماں اور بچہ مارے خوف کے ایک گاڑی میں سوار ہو جاتے ہیں۔ کوچوان اور مادام کی گفتگو سے ننھا سرگ یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ مزدور اچھے ہیں یا برے۔
کوچوان اور آگنیشن کا کردار انقلاب کی فطری خواہش کا آئینہ دار ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روس کا ہر متنفس تبدیلی کاخواہاں ہے۔
دو روز بعد ہڑتال بالکل عام ہو گئی۔ اشیا خوردنی تک بھی مہیا نہ ہوسکتی تھیں۔ سرگ کو صبح کے وقت بسکٹ نہ ملے تو اس کے دماغ میں مزدوروں کےخلاف حقارت کے جذبات پیداہونے شروع ہو گئے۔ تاہم وہ فیصلہ نہ کر سکاکہ مزدوراچھے ہیں یا برے.... وہ مزدوروں سے خوفزدہ ضرور تھا۔
جب سرگ کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی خادمہ کاخاوند مزدور ہے تووہ مزدور کو دیکھنے کے لئے بے تاب ہوتا ہے۔ وہ مزدور جس نے شہری آبادی پرعرصہ حیات تنگ کردیا، کس قدر خوفناک اوربہادر ہوگا؟ لیکن اکیلے مزدور کی زبوں حالی دیکھنے کے بعد بچے کے دل سے مزدوروں کاخوف زائل ہوگیا۔
مزدوروں کی اجتماعی قوت ایوان حکومت متزلزل کرسکتی ہے لیکن تنہا مزدور ایک خوفزدہ بچے کو بھی مرعوب نہ کرسکا۔
کسی ملک کا آرٹ اورلٹریچر اس کی رفتار حیات کا مظہر ہواکرتا ہے، جس طرح زندگی صنعتی اور سیاسی اور مجلسی انقلابات سے گزرتی ہے، اس طرح ادب متوازی مدارج طے کرتا ہے۔ روس ایسی زراعتی سر زمین کے اچانک صنعتی ملک ہوجانے سے وہاں سینکڑوں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ قدیم نظریے ختم کر دئیے گئے۔ زاری و قیصری، سروری و سکندری کا نام و نشان تک باقی نہ رہا۔ ادبیات میں طالسطائیت کی خشک اخلاقیات کی جگہ گورکی کے جان آفرین اور حریت پر ور افکار نے حاصل کی۔ مذہب، کلیسا اور عبادت کی جگہ اشتمالیت، کار خانہ اور محنت نے لی۔
” روسی افسانوں“ کا مترجم سعادت حسن اس سے پیشتر شہرہ آفاق فرانسیسی مصنف وکٹر ہیوگو کی کتاب کا ترجمہ” سر گذشت اسیر“ کے نام سے شائع کر چکے ہیں ترجمہ کے متعلق ہندوستان کے بہترین ادبی رسائل و جراید نے نو جوان مترجم کی خدمت میں خراج تحسین پیش کیا۔
روسی افسانوں میںمساوات، پتھر کی سر گزشت، جاگیردار، شراب اور شیطان ہندوستان کے ممتاز ادبی رسالہ” ہمایوں“ میں شائع ہو چکے ہیں۔
” سر گذشت اسیر“ کی طرح مترجم نے شوکت ترکیب، تسلسل اور زور بیان اور روانی کو ترجمہ میں بدستور جاری رکھنے کی کامیاب سعی کی ہے۔
روسی ادب کے مطالعہ کے بعدمترجم نے روسی طرز کا ایک مختصر طبع زاد افسانہ” تماشا“ لکھا ہے۔ افسانہ کا محل و قوع امر تسر کی جگہ ماسکو نظر آتا ہے۔
خالد نقاب پوش ہندوستانی خاتون کا بچہ ہونے کی نسبت سرخ دامن کا پروردہ دکھائی دیتا ہے۔
باری
” دار لاحمر“ امر تسر

   ایکسپو B2B " اوپن کریما" 2018 - بین الاقوامی نمائش. کانفرنس حلال سرمایہ کاری  اسلامی بینکنگ اور تجارت           | فیشن  ...