آبادی سے متعلق کانفرنس کے موقعے پر جاری کی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں جنس کے انتخاب کے نتیجے میں خاص طور پر اِن ملکوں میں ہونے والی مردم شماری میں لڑکوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہورہا
رون کاربن, صفیہ کاظم, واشنگٹن
بنگلہ دیش، افغانستان اور مشرقی یورپ کے ممالک جن میں البانیا، آرمینیا، آزربائیجان، جارجیا اور مانٹی نیگرو شامل ہیں، جنس منتخب کرنے کا رواج بڑھ رہا ہے۔یہ بات اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق فند (UNPF) کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک تازہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ یہ رپورٹ آبادی کی کانفرنس کے موقعے پر جاری کی گئی ہے اور جنس کے انتخاب کے نتیجے میں اِن ملکوں میں ہونے والی مردم شماری میں لڑکوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہورہا ہے۔ الٹرا ساؤنڈ تیکنالوجی اور بچوں کی تعداد کو محدود کرنے کی حکومت کی پالیسیوں کے سبب مقامی ثقافت میں اس کا رجحان بڑھ گیا ہے۔سنہ 2010 میں تحقیق کرنے والوں کے اندازے کے مطابق زیادہ تر چین اور بھارت میں عورتوں کی تعداد 11کروڑ 70لاکھ کم تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ 2030ء تک اِن دو ملکوں میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی تعداد 50 فی صد زیادہ ہوگی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آزاد فکرتجربی سوچ کا کا نتیجہ ہوتی ہے جو عقل' منطق ' علم اور شک کے ا شتراک سے پروان پاتی ہے. یہ وہموں کی بنیاد پر جگہ بنانے والی زہریلی سوچ اور طرز عمل کو للکارتی ہے جمے ہوے پسماندہ رویوں اور ان میں پوشیدہ طاقتوں
کے مفادات کو بےنقاب کرتی ہی. یہ مسائل کو حل کرنے کے روشن خیال 'سیکولر اور سائنسی طریقے اختیار کرتیہے. یہ آپ سے پوری جرات اور شعور کی بنیاد تجریدی وہموں کو مسترد اور زندگی میں سائنسی اقدار اپنانے کا مطالبہ کرتیہے. یہ عظیم اخلاقی اقدار کو انسانی اور سماجی ارتقا کا لازمی ایسا مانتی ہے . انسان کو رنگ' نسل، مذہب اورلسانی شناختوں پر منقسم منافرتوں کو پوری طاقت سے مسترد کرتی ہے. آزاد فکر انسانیت، علم اور سچ کو اپنا اثاثہ مانتی ہے' اس فورم پر آپ کو خوش آمدید ' ہم امید رکھتے ہیں آپ تمام دوستوں کا احترام کرتے ہوے مثبت طرزعمل کے ساتھ اس فورم پر علمی' ترقی پسنداور جہموری سوچ کو فوروغ دیں گے