پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں قید 14 سالہ مسیحی لڑکی رمشاء کو ضمانت پر جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ رمشاء کی رہائی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے ہفتے کی شام عمل میں آئی۔
اس موقع پر جیل کے اردگرد سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کمانڈوز کی نفری کو جیل کے احاطے اور مرکزی دروازے پر تعینات کیا گیا تھا۔
رمشاء کو رہائی کے بعد حفاظتی طور پر لے جانے کے لیے راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کی دو الگ الگ بکتر بند گاڑیاں بھی جیل کے اندر لے جائی گئیں تاہم اس 14 سالہ مسیحی لڑکی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جیل سے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا جہاں اس کے اہلخانہ پہلے ہی حفاظتی تحویل میں ہیں۔
رمشاء کی ضمانت کا حکم اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے 5 لاکھ روپے کی ضمانتی مچلکوں کے عوض جمعے کے روز دیا تھا۔ تاہم گزشتہ روز مچلکے جمع نہ ہو نے کے سبب اس کی رہائی ایک روز کی تاخیر سے عمل میں آئی۔

رمشا کے خلاف ثبوت گھڑنے کے الزام کا سامنا کرنے والا امام مسجد
رمشاء کی گرفتاری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسیحی خاندان کو تحفظ فراہم کرے اور آئندہ ایسے واقعات کے سدباب کے لیے بھی ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں ، انسانی حقوق کی سرگرم کارکن حنا جیلانی نے بتایا،
’’اس کیس کے دوران جو لوگ اس بات میں شامل تھے اس لڑکی پر الزامات لگانے میں اور اس کمیونٹی میں خوف کی فضاء بنانے میں ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے اور اس طرح کے اقدامات کیے جائیں جس کی وجہ سے وہاں مذہبی ہم آہنگی بحال ہو سکے۔‘‘
دوسری جانب وکلاء کا کہنا ہے کہ رمشاء کیس پاکستانی حکومت اور نظام انصاف کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اور اس کی بنیاد پر توہین مذہب کے قانون میں اصلاحات کی جاسکتی ہیں۔ اس بارے میں معروف وکیل بابر ستار نے ڈوئچے ویلے کو بتایا،

رمشا مسیح کے وکلاء
’’یہ اس لیے شاید تھوڑا مؤثر مقدمہ ثابت ہو گا اصلاحات کرنے کے پس منظر سے۔ یہ اس قدر گھمبیر مقدمہ تھا کہ اس میں جس طرح سے گرفتار کیا گیا مقدمہ بنایا گیا جس طرح شکایت کرنیوالوں اور مسجد کے مولوی نے ثبوت گھڑا اس کی وجہ سے اس کا دفاع ممکن نہیں تھا ۔ ہمیں ضرور کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اس کو قانون میں اصلاحات کے لیے استعمال کر سکیں تاکہ اس کا غلط استعمال کم ہو سکے۔‘‘
رمشاء مسیح کو اسلام آباد پولیس نے میرا جعفر نامی گاؤں سے 16 اگست کو قرآن پاک کے اوراق جلانے کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا تھا۔ تاہم بعد میں اس کیس نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب مقامی مسجد کے امام خالد جدون پر ان کے نائب امام حافظ زبیر نے الزام لگایا کہ انہوں نے مقامی مسیحی آبادی کو بے دخل کرنے کے لیے رمشاء سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والے جلے ہوئے اوراق میں مزید اوراق شامل کیے تھے۔ اس کے بعد پولیس نے اس مولوی خالد جدون کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کر لیا۔ اس مقدمے کے دوران عدالت کی جانب سے بنائے گئے طبی بورڈ نے رمشاء کی عمر 14 سال بتائی تھی اس سبب کمسن افراد کے نظام انصاف کے تحت رمشاء کی ضمانت پر رہائی عمل میں آ سکی۔ اس مقدمے کے سامنے آنے پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، امریکا اور ویٹی کن نے پاکستان پر رمشاء کی رہائی اور توہین مذہب کے قانون میں اصلاحات کے لیے زور دیا تھا۔
ڈوئچے ویلے
رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
آزاد فکرتجربی سوچ کا کا نتیجہ ہوتی ہے جو عقل' منطق ' علم اور شک کے ا شتراک سے پروان پاتی ہے. یہ وہموں کی بنیاد پر جگہ بنانے والی زہریلی سوچ اور طرز عمل کو للکارتی ہے جمے ہوے پسماندہ رویوں اور ان میں پوشیدہ طاقتوں
کے مفادات کو بےنقاب کرتی ہی. یہ مسائل کو حل کرنے کے روشن خیال 'سیکولر اور سائنسی طریقے اختیار کرتیہے. یہ آپ سے پوری جرات اور شعور کی بنیاد تجریدی وہموں کو مسترد اور زندگی میں سائنسی اقدار اپنانے کا مطالبہ کرتیہے. یہ عظیم اخلاقی اقدار کو انسانی اور سماجی ارتقا کا لازمی ایسا مانتی ہے . انسان کو رنگ' نسل، مذہب اورلسانی شناختوں پر منقسم منافرتوں کو پوری طاقت سے مسترد کرتی ہے. آزاد فکر انسانیت، علم اور سچ کو اپنا اثاثہ مانتی ہے' اس فورم پر آپ کو خوش آمدید ' ہم امید رکھتے ہیں آپ تمام دوستوں کا احترام کرتے ہوے مثبت طرزعمل کے ساتھ اس فورم پر علمی' ترقی پسنداور جہموری سوچ کو فوروغ دیں گے